کوئٹہ، صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے پارٹنرز کے تعاون سے ماؤں اور بچوں کی شرح اموات پر قابو پانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر خرچ رہی ہے۔خصوصاً حمل اور زچگی کے دوران صوبے کے دور دراز علاقوں میں سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ افرادی قوت کی کمی نہیں ہے تمام اضلاع میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز جو ڈیوٹی سے غائب ہے انکے خلاف جلد کاروائی عمل لائی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صوبائی پاپولیشن ٹاسک فورس (PPTF) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا اجلاس میں سیکرٹری صحت نور الحق بلوچ ،سیکرٹری پی اینڈ ڈی عبداللہ نورزٸی ، سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز عمران گچکی ، ڈی جی پاپولیشن محمد گل ، ڈائریکٹر ہیلتھ صوبائی سربراہ ایم این سی ایچ پروگرام ڈاکٹر اسماعیل میروانی ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایم این سی ایچ پروگرام ڈاکٹر سرمد سعید خان ، ڈاٸریکٹر پبلک ھیلتھ، میڈیکل سپورٹ پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ ، ،صوباٸی سربراہ یو ایس ایڈ ڈاکٹر اعظم جان ، یو این ایف پی اے کے نمائندے ڈاکٹر ظفر خان، میڈیکل سپورٹ پروگرام کے فیض احمد بڑیچ سمیت بلوچستان بھر سے مختلف اداروں کے شرکاء نے کثیرتعداد میں شرکت کی صوبائی ٹاسک فورس کے اس موقع پر اجلاس میں ماں اور بچے کی صحت ،زچگی کے دوران ہونے والی اموات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور صوبائی وزیر صحت کو مکمل طور پر بریفنگ دی گئی ویڈیو لنگ کے زریعے اسلام آباد یو ایس ایڈ کا نمائندہ پاکستان لطفہ اور ڈاکٹر آصف شیرازی شریک ہوئےاجلاس کے شرکاء سے صوبائی وزیر صحت نے مزید کہا کہ دوران زچگی شرح اموات میں کمی کے لئے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہے ہیں ہر اضلاع میں مقامی خواتین کو مناسب ٹریننگ کے لئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ ماں اور بچے کی صحت کی دیکھ بھال بہتر طریقے کی جاسکے اور زچگی کے دوران شرح اموات پر قابو پایا جاسکے۔ لیڈی ھیلتھ ورکرز اور کمیونٹی میڈواٸف کو جدید تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی، حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں پر قابو پانے، زچگی کے دوران یا زچگی کے بعد انفیکشن سے بچاؤ اور ماؤں اور بچوں کے علاج و معالجے کے حوالے سے تعلیم اور تربیت کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کی ضرورت ھے تاکہ وہ اپنے گاؤں اور کمیونٹی کی عورتوں اور بچوں کو جدید صحت کی سہولیات فراہم کر سکیں تاکہ ماں اور بچے کی شرح اموات میں کمی لایا جا سکیں انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس گزشتہ کئی مینے سے منعقد نہیں ہوا تھا جوکہ باعث تشویش ہے صوبائی وزیر صحت نے شرکاء کے اصرار پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس دوبارہ جکد از جلد منعقد کروانے کے احکامات جاری کردیئے.
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں