‏دوسری خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏دوسری خبریں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بلوچستان کے وساہل کو کوڑیوں کے دام بکنے نہیں دیں گے: نعیم بلوچ


بلوچستان کے وساہل کو کوڑیوں کے دام بکنے نہیں دیں گے ٹریلین ڈالرز کے ذخائر کا پچھتر فیصد حصہ دوسروں کے حوالے کرنا عوام کی ملکیت پر ڈاکہ ہے ریکوڈک پر تمام اسٹک اولڈرز کو اعتماد میں۔لینے کے بعد معاہدہ کیا جائے نعیم بلوچ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ نے کہا ہے ریکوڈک معاہدے کو منظر عام پر لایا جائے عوام کی ملکیت کا معاہدہ ہو رہا ہے اور معاہدے کو عوام سے چھپایا جارہا ہے حکومت کے مشکوک حرکات کی وجہ سے معاہدے پر سوالات اٹھ رہے ہیں قدرتی وساہل کو کسی بھی صورت کوڑیوں کے دام بکنے نہیں دیں گے پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیگی بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ وار بھی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ان بدبختوں نے کھبی عوام کے مفاد میں فیصلے نہیں کیے ہر ہمیشہ وہ کمیشن اور کرپشن کے فکر میں ہوتے ہیں ٹریلین ڈالرز کے زخائر میں سے 75 فیصد حصہ دوسروں کو دینا سمجھ سے بالاتر ہے اور 25 فیصد باقی پر مزید 29 فیصد ٹیکس ادا کرنے پر راضی ہونا حکمرانوں کے لیے باعث شرم اور بلوچستان کے وساہل پر لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں ہے بلوچستان کے وساہل پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے بلوچستان کے وساہل کے مالک بلوچستان کے عوام ہیں حکومت وقت پردے کے پیچھے سودہ بازی سے باز آجائے تمام اسٹیک اولڈرز کو اعتماد لے کر فیصلے کرے بصورت دیگر ہمارے قانونی راستے کھلے ہوئے ہیں عدالت جا کر معاہدے کو چیلنج کریں گے بلوچستان کے وساہل کسی کو لوٹنے نہیں دئینگے اور سیندک معاہدے پر حکومت سے نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں بلوچستان کے وساہل پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے بلوچستان وفاق کی پالیسوں کی وجہ سے ملک کا پسماندہ ترین صوبہ بن چکا ہے بلوچستان کے ساتھ وفاق پاکستان کارویہ سوتیلی ماں جیسی رہی ہے اور یہاں کے لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سمجھتے ہیں ایک طرف سے ہمارے وساہل چھینتے ہیں اور دوسرے طرف ہمیں جاہل اور غدار کہہ کر ہمارے تضحیک کرنے میں دیر نہیں کرتے آج بلوچستان میں جو بغاوت ہے اس کا ذمہ دار وفاق کا آقا اور غلام والا رویہ ہے بلوچستان کے عوام کو کھبی اپنے نماہندے منتخب کرنے کی اجازت کھبی نہیں دیا اپنے من پسند لوگوں کو اسمبلیوں میں سلیکٹ کیا جاتا رہا اور ان کے ذریعے پالیسیاں بنا کر بلوچستان کے وساہل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر ہمارے غربت اور پسماندگی کا مذاق اڑاتے رہے سیندک ہمارا سب سے بڑا قیمتی اثاثہ ہے اس پر کسی کو سودے بازی نہیں کرنے دہینگے آخری سانس تک اپنے ملکیت کا دفاع کرتے رہیں گے

صوبائی وزیر صحت سیداحسان شاہ کے زیر صدارت اجلاس

 


کوئٹہ، صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے  پارٹنرز کے تعاون سے ماؤں اور بچوں کی شرح اموات پر قابو پانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر خرچ رہی ہے۔خصوصاً حمل اور زچگی کے دوران صوبے کے دور دراز علاقوں میں سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ افرادی قوت کی کمی نہیں ہے تمام اضلاع میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز جو ڈیوٹی سے غائب ہے انکے خلاف جلد کاروائی عمل لائی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صوبائی پاپولیشن ٹاسک فورس (PPTF) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا اجلاس میں سیکرٹری صحت نور الحق بلوچ ،سیکرٹری پی اینڈ ڈی عبداللہ نورزٸی ، سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز عمران گچکی ،  ڈی جی پاپولیشن  محمد گل ، ڈائریکٹر ہیلتھ صوبائی سربراہ ایم این سی ایچ پروگرام ڈاکٹر اسماعیل میروانی ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایم این سی ایچ پروگرام ڈاکٹر سرمد سعید خان ، ڈاٸریکٹر پبلک ھیلتھ، میڈیکل سپورٹ پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ ، ،صوباٸی سربراہ یو ایس ایڈ ڈاکٹر اعظم جان ، یو این ایف پی اے کے نمائندے ڈاکٹر ظفر خان، میڈیکل سپورٹ پروگرام کے فیض احمد بڑیچ سمیت بلوچستان بھر سے مختلف اداروں کے شرکاء نے کثیرتعداد میں شرکت کی صوبائی ٹاسک فورس کے اس موقع پر اجلاس میں ماں اور بچے کی صحت ،زچگی کے دوران ہونے والی اموات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور صوبائی وزیر صحت کو مکمل طور پر بریفنگ دی گئی ویڈیو لنگ کے زریعے اسلام آباد یو ایس ایڈ کا نمائندہ پاکستان لطفہ اور ڈاکٹر آصف شیرازی شریک ہوئےاجلاس کے شرکاء سے صوبائی وزیر صحت نے مزید کہا کہ دوران زچگی شرح اموات میں کمی کے لئے ٹھوس  بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہے ہیں ہر اضلاع میں مقامی خواتین کو مناسب ٹریننگ کے لئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ ماں اور بچے کی صحت کی دیکھ بھال بہتر طریقے کی جاسکے اور زچگی کے دوران شرح اموات پر قابو پایا جاسکے۔ لیڈی ھیلتھ ورکرز اور کمیونٹی میڈواٸف کو جدید تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی، حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں پر قابو پانے، زچگی کے دوران یا زچگی کے بعد انفیکشن سے بچاؤ اور ماؤں اور بچوں کے علاج و معالجے کے حوالے سے تعلیم اور تربیت کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کی ضرورت ھے تاکہ وہ اپنے گاؤں اور کمیونٹی کی عورتوں اور بچوں کو جدید صحت کی سہولیات فراہم  کر سکیں تاکہ ماں اور بچے کی شرح اموات میں کمی لایا جا سکیں انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس گزشتہ کئی مینے سے منعقد نہیں ہوا تھا جوکہ باعث تشویش ہے صوبائی وزیر صحت نے شرکاء کے اصرار پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس دوبارہ جکد از جلد منعقد کروانے کے احکامات جاری کردیئے.