‏اورنگ زیب نادر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اورنگ زیب نادر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

تربت یونیورسٹی سیداحسان شاہ کا ایک عظیم کارنامہ ہے : تحریر: اورنگ زیب نادر




تحریر: اورنگ زیب نادر

جو قومیں علم کے زپور سے آراستہ ہوں اور ان کے لیڈر اور قائدین تعلیم یافتہ اور علم دوست ہوں تو ان کو کوئی بھی ترقی سے روک نہیں سکتا کامیابی و کامرانی ان کے قدم ضرور چومے گی اور خوشحالی ان کا مقدر بنے گی یہ کیچ کے عوام کی سعادت اور خوش قسمتی ہے کہ انہیں سیداحسان شاہ جیسا علم دوست لیڈر اور نمائندہ ملاہے جو علاقے میں علم کے فروغ کے لئے انتھک کوششیں اور جدوجہد کررہےہیں کیونکہ وہ خود ایک تعلیم یافتہ(Educate) شخص ہیں اقر انہیں تعلیم اور اہل علم سے خصوصی محبت ہے اور وہ کیچ کو ایک مثالی تعلیمی ضلع بنانے کا عزم اور تہیہ کئے ہوئے ہیں اور ان کی یہ کوششیوں نے رنگ لایا ہے۔اس وقت تربت یونیورسٹی پاکستان کے بڑے یونیورسٹیوں میں شمار ہے۔

یہاں کے طلباء وطالبات کو گریجویشن کے بعد پوسٹ گریجویشن کے لئے کوئٹہ جانا پڑتاتھا جو کہ ان کے لئے انتہائی مشکلات اور تکالیف کا باعت تھا کیونکہ یہاں کے لوگوں کی اکثریت غربت کا شکار ہیں اور ان کے پاس اتنی مالی استطاعت نہیں ہوتی کہ وہ اتنی دور علم کے حصول کے لئے جاسکیں اوع کوئٹہ آنے جانے کا دشوار گزار اور تکلیف دہ راستہ ایک غذاب اور سزا سے کم بھی نہیں ہے۔سیداحسان شاہ کو یہاں کے طلباءطالبات اور لوگوں کی ان تکالیف اور مشکلات کا اچھی طرح سے احساس اور اندازہ تھا اقر وہ ان کی تکالیف کو سجھتا تھا انہوں نے کیچ بلکہ پورے مکران کے لئے وہ تاریخی اور ناقابل فراموش کارنامہ "تربت یونیورسٹی" کی صورت میں انجام دیاجوکہ ہمیشہ یاد رکھاجائے گا تربت یونیورسٹی کے قیام سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب مکران بھر کے طلباءطالبات اپنے ہی علاقے میں اعلی تعلیم حاصل کرسیکں گے تربت یونیورسٹی جو کہ یہاں کے طلباءطالبات اور لوگوں کا ایک دیرینہ مسئلہ اور مطالبہ تھا اور کوئی یہ تصور ہی بھی نہیں کرسکتا تھا کیچ میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں آئے گایہ ایک خواب تھا جسے کیچ کے ہردلعزیز لیڈر اور رہنماء سیداحسان شاہ نے شرمندہ تعبیر بنایا۔

یہ ان کی علم دوستی کا منہ بولتا اور واضع ثبوت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔واقعی یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا اگر کوئی اس سے انکار یا اس کی مخالفت پر اترآئے تو وہ عقل سے عاری اور بلوچ اور علم دشمن تصور کیاجائےگا۔نا نہاد قوم پرست جو کہ اپنے آپ کو بلوچ قوم کا سب سے بڑا علمبردار اور خیرخواہ ظاہر کرتےہیں لیکن کسی نے بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ہے حالانکہ وہ وزیراعلی اور تعلیم جیسے شعبے کے سیاہ وسفید کے مالک بھی رہے ہیں اور وزارتوں کے مزے بھی انہوں نے لوٹے ہیں اور تاحال وہ پارلیمنٹ کا حصہ بھی ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے تعلیم جیسے اہم شعبے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کیاہے بلکہ انہوں نے قوم کے معماروں کے مستقبل سنوارنے والوں (اساتذہ کرام) کو معاشی حوالے سے مزید پیچھے دھکیلنے کے لئے سی اے کو فریز کیاتاکہ اساتذہ کرام معاشی حوالے سے مزید کمزور ہوں اور وہ یکسوئی سے قوم کے معماروں کو زپور تعلیم سے آراستہ نہ کرسکیں کیا یہی قوم پرسی ہی کہ قوم کو خوشحال اور تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے ان کو مزید تاریکیوں کرنے والوں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

لیکن سیداحسان شاہ نے اپنے تینوں دور وزارت میں جس شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت اور ترجیح دی ہے اور کوششیں کی ہیں وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔(پبلک لائبریری) کا قیام بھی ان کی کوششوں اور جدوجہد کی مرہون منت ہے اور ان کی علم دوستی کو ظاہر کرتاہے جوکہ یہاں کے طلباءاور اہل علم کے لئے ایک نعمت کبری سے کم نہیں ہے۔سیداحسان شاہ جب بھی یہاں کے دورے پر آتے ہیں تو وہ تعلیمی اداروں کا دورہ ضرور کرتےہیں اور طلباءطالبات اساتذہ کرام اور تعلیم ذمہ داران سے ضرور ملاقاتیں کرتےہیں اور ان کو درپیش مسائل معلوم کرکے انہیں حل کرنے کی خصوصی کوششیں کرتے ہیں۔ کیچ کی عوام نے سیداحسان شاہ کی اس کارنامہ کو سراہاہے۔کیچ کے عوام کو ایسے علم دوست لیڈر اور نمائندے پر فخر ہے اور ایسے لیڈر اور نمائندہ قوم کا سرمایہ ہوتےہیں۔

لیٹس گرین تربت کی ٹیم کا دس لاکھ درخت لگانے کا منصوبہ : تحریر:اورنگ زیب نادر



تحریر: اورنگ زیب نادر

لیٹس گرین تربت کاآغاز فیس بک پیج (Facebook page) کے ذریعے سے ہوا۔لیٹس گرین تربت کا آغاز سماجی کارکن معراج روشن نے کیا ۔پچھلے سال لیٹس گرین تربت کی ٹیم نے بھرپور حصہ لیا پچھلے سال تربت کے بیشتر علاقوں،اسکولوں،دفاتر ودیگر جگہوں میں لیٹس گرین تربت کی ٹیم نے درخت لگائے۔

لیٹس گرین تربت کی ٹیم پچھلے سال کی طرح اس سال بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی۔لیٹس گرین تربت گزشتہ سال سے تربت میں شجرکاری کررہاہے اب تک لیٹس گرین تربت ہزاروں کی تعداد میں درخت لگا چکاہے۔ لیٹس گرین تربت کے فاونڈر اور کوآرڈینیٹر معراج روشن نے بتایا کہ کمشنر مکران طارق زہری صاحب ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والا ممبر اسمبلی کے تعاون سے لیٹس گرین تربت اس سال لاکھوں کی تعداد میں درخت لگانے کے منصوبےپر کام کررہاہے اس سال اگست میں پانچ سے دس لاکھ اگلے سال فروری میں پانچ سے دس لاکھ درخت لگانے کے منصوبےپر کام کررہاہے۔

اس سلسلے میں لیٹس گرین تربت ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والا پچاس سے زائد لوکل سماجی تنظیموں (Organizations) کے ساتھ ملکر اس منصوبے پر کام کرنے جارہاہے'
جس میں مند سے لیکر ہوشاب دشت سے لیکر پیدراک کولوہ سمیت پورے ضلع کیچ میں شجر کاری مہم کو پھیلانے جارہاہے
اس منصوبہ میں ایک ہزار سے زائدمختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں یہ منصوبہ انشاءاللہ ضلع کیچ کے ماحول میں کافی تبدیلی لائے گا اس منصوبے کو مزید تقویت دیتے ہو ئےاس منصوبے میں مزیدپھل دار درخت شامل کرنے جارہے ہیں ۔

عورتوں کی غذا کو پورا کرنے کیلئےغریب خواتین کیلئےایک سو پھل دار درخت والا باغ بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے جو غربت کے خاتمہ کیلئے اہم ہوگا ۔
اس کے علاوہ لیٹس گرین تربت نے اپنے اغراض و مقاصد میں یونائیٹڈ نیشن کی جانب رکھنے Sustainable development Goals بھی شامل کردیا جو انتہائ اہمیت کا حامل ہے اور لیٹس گرین تربت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کا پہلا لوکل آرگنائزیشن ہے جو یونائیٹڈ نیشن کی جانب رکھنے والا کچھ گولز پر کام کررہاہے۔

ہمیں آپ لوگوں کے تعاون و مدد کی ضرورت ہے آپ ہمیں اس نیک کام میں مدد دیں تاکہ ماحول کو خوشگوار اور خوبصورت بنایاجاسکے۔

کیا بلوچ اور بلوچستانی ہونا ہمارا جرم ہے؟ تحریر: اورنگ زیب نادر



تحریر: اورنگ زیب نادر

جب قلم کو اٹھایا اور موضوع کے بارے میں لکھنا شروع کیا تو ذہن میں آیا لکھوں تو کیا لکھوں ؟ کیونکہ بلوچستان ایک جنگ زدہ صوبہ کی کیفیت پیش کررہاہے۔ہر طرف ظلم ،بربریت ۔ ناانصافی اور نہ جانے کیا کیا۔رب العزت نے ہمیں ایک ایسے صوبے سے نوازا ہے جو قدرتی معدنیات سے مالامال ہے لیکن بدقسمتی سے نام نہاد حکمرانوں کی وجہ سے عوام اجیرن اورکسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔کس واقعہ کس سانحہ اور کس ظلم کی بات کروں اور کس سے فریاد کروں۔۔۔۔!!!

پچلھے دنوں بلوچستان کے علاقے مچھ میں ایک ایسا درد ناک واقعہ رونما ہوا جس کو سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ان کا قصور کیا تھا اور ان کا جرم کیا تھا؟ہمارے بچوں اور بھائیوں کو کیوں مارا گیا لواحقین کی فریاد۔ان مزدوروں کا جرم کیا تھا ؟ یہ ہے کہ یہ بلوچستان کے باسی تھے...؟یہ بیجارے دو وقت کی روٹی کے لئے مزدوروں کررہےتھے کہ اپنے گھروں کو چلا سکیں۔لواحقین کا کہنا ہے اب ہمارے گھروں میں مرد باقی نہ رہے۔ کئی دنوں سے منفی 7 سنٹی گریڈ سردی میں میتوں کو لے کر دھرنا دیا۔
اور ملک کے سربراہِ کے انتظار میں ہے۔۔۔حکومت کے اراکین حسب معمول کی طرح آکر تسلی دے کر چلےجاتےہیں کیا ہم بھیڑ بکری اورچوپائےہیں جب چاہےہمیں مارا جاتاہے۔۔۔۔؟

سال 2020 کے اختتام پر بلوچستان کو تحفہ سے نوازا گیا جو کریمہ بلوچ کی صورت میں تھی۔آخر بلوچ جائیں تو کہاں جائیں۔۔؟ہم دنیا کے کسی کونے میں محفوظ نہیں "کیوں۔۔؟کچھ عرصہ قبل سویڈن میں ایک بلوچ منصف اور جرنلسٹ ساجد حسین کو شہید کردیاہے۔بلوچوں کے ہیرو کو چن چن کر مارا جارہاہے۔۔۔!!!

اسی طرح چند ماہ قبل تربت میں ایک طالب علم کو بلاوجہ شہید کردیا گیا جو اپنے والدین کے ہمراہ باغات میں ان کا ہاتھ بٹھا رہےتھے وہاں جاکر والدین کے سامنے ان کے سینے پر گولیوں کی بارش کردی۔ان کا جرم کیاتھا کہ وہ بلوچ تھا اور بلوچوں کا نام روشن کرنا چاہتاتھا۔

"ہم جینا چاہتے ہیں ہمیں چین سے جینا دیا جائے"

رضا مورانوی نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔

"یوں ہی ظالم کا رہا راج اگر اب کے برس

غیرممکن ہے رہے دوش پہ سر اب کے برس

جسم بوئیں گے ستم گار اناجوں کی جگہ

اور فصلوں کی طرح کاٹیں گے سر اب کے برس

ذہن سے کام لو اور موڑ دو طوفان کا رخ

ورنہ آنسو میں ہی بہہ جائیں گے گھر اب کے برس

جانے کس وقت اجل آپ کو لینے آ جائے

ساتھ ہی رکھیے گا سامان سفر اب کے برس

نخل حسرت کو نہ اشکوں کی نمی دو ورنہ

اور مہکے گا گل زخم جگر اب کے برس

اب نہ گھبراؤ کہ مٹنے کو ہے ظالم کا وجود

خون مظلوم دکھائے گا اثر اب کے برس"

بلوچستان کی شاہراہوں پر موت کا رقص جاری : تحریر: اورنگ زیب نادر



تحریر: اورنگ زیب نادر

افسوس کا مقام ہے کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ابھی تک ایک بھی شاہراہ ڈبل وے نہیں ہے لیکن پنجاب ودیگر صوبوں کے زیادہ تر شاہراہیں ڈبل وے ہیں یہ سراسر ظلم ہے جو بلوچستان کے عوام کے ساتھ روارکھاجارہاہے۔

حال ہی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ ایک سال کے دوران بلوچستان کے مختلف شاہراہوں پر حادثادث کے سبب سے 8 ہزار لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ گنوا بیٹھے جبکہ پچھلی دہائی میں دہشتگردی کی وجہ سے مارے گئے افراد کی تعدار 2238 ہے اگر دیکھاجائے تو بلوچستان میں سب سے زیادہ اموات ان شاہراہوں کی وجہ سے ہورہی ہیں لیکن حکومت کو کرونا وائرس کی پڑی ہےکہ کرونا وائرس سے لوگ مررہےہیں لیکن ان شاہراہوں کی وجہ سے اموات نظر ہی نہیں آ رہےہیں۔

مکران کے اکثر لوگ کراچی و دیگر شہروں میں علاج معالجہ کے لئے اور بہت کم لوگ سیرو تفریح یا تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتےہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ہزار لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرتےہیں۔افسوس کی بات ہے کہ اب تک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے ایک بھی شاہراہ ڈبل وے نہیں ہے۔

کوئٹہ ٹو کراچی شاہراہ 813 کلو میٹر (505) میل ہے اور اسے آر سی ڈی شاہراہ بھی کہا جاتاہے۔یہ شاہراہ مہلک کا مرکز بھی کہا جاتاہے، جو 42 فیصد پاکستان کا احاطہ کرتا ہے.یہ سنگل شاہراہ 10 بڑے شہروں سے گزرتی ہے مقامی لوگ اس شاہراہ کو قاتل روڈ کہتےہیں کیونکہ ایک سال کے دوران یہاں 800 سے زائد حادثات رونما ہوچکےہیں۔

سال 2019 کے اپریل میں کراچی ٹو کوئٹہ شاہراہ پر مسافر وین ٹریک سے ٹکرا گئے اور بارش کی وجہ پھسل کر دوسری طرف جاکے گرگئے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے نو افراد کی موت واقع ہوئی جو کوئٹہ میں جنازے میں شرکت کرنے کے لئے جا رہےتھے۔

کچھ عرصہ قبل کراچی سے پنجگور ایک مسافر بس 27 مسافروں کے ساتھ پنچگور کی طرف روانہ ہوا تو جب لسبیلہ کا مقام آیا تو ٹریک سے ٹکرا گئے جس کے نتیجہ میں بس آگ کی لپیٹ میں آگیا تو سارے مسافر جل کر راکھ ہوگئے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے یہ دردناک واقعہ نے سارے بلوچستان کو سوگوار کردیا۔اسی طرح سابق کمشنر مکران شہید طارق قمر زہری جو اپنے ڈرائیور اور گن مین کے ہمراہ اپنے گھر جارہے تھے تو راستہ میں تیل بردار گاڑی ٹکرا گئے تو گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی تو کمشنر اپنے ڈرائیور اور گن میں سمیت خالق حقیقی سے جاملا۔ صرف یہ نہیں اور کئی قیمیتی جانیں اور اثاثے ان خونی شاہراہوں کی زد میں آچکےہیں۔

گزشتہ دنوں ایک ایسا ہی حادثہ رونما ہوا جو اوتھل کے مقام پر پیش آیا جو پنجگور میں جارہاتھا تو راستے میں حادثے کا شکار ہوا جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ان شاہراہوں پر لاتعداد حادثات رونما ہوئے ہیں۔

شاہراہوں میں دن بدن حادثات کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے اور یہ بلوچستان میں معمول بن چکاہے۔ بلوچستان میں شاہراوں پر حادثات دہشگردی سے بڑا مسئلہ ہے۔سالانہ اربوں روپے سیکورٹی کے نام پر خرچ کیے جاتے ہیں لیکن ان شاہراوں پر نہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔!

جب کوئی حادثہ رونما ہوتاہے تو وقتی طور پر قانون بنائے جاتے ہیں اور کاروائی عمل میں لائی جاتی ہےلیکن بدقستمی کچھ عرصہ گذرنے کے بعد سب کچھ بھلادیاجاتاہے۔

یہ نہیں کہ سارے حادثات کا سبب سنگل وےہے بلکہ بیشتر حادثات کا سبب یہی ہے اور کچھ اور اسپیڈنگ کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کے لئے قوانین عمل میں لایاجائے۔

اب ہم میں مزید لاشیں اٹھانے کی ہمت نہیں ہے لہذا وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ مزید قیمتی جانے ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

کیچ کے سماجی تنظمیوں کو سلام :تحریر: اورنگ زیب نادر



تحریر: اورنگ زیب نادر

یادرہے کہ کیچ کے نوجوانوں نے ہمیشہ مصیبت کے وقت قوم کی خدمت کی ہے اور مشکل گھڑی میں عوام کا ساتھ دیاہے۔

جو بھی مصیبت یا قدرتی آفات آئے ہیں تو کیچ کے سماجی تنظمیوں نے عوام کی خدمت میں پیش پیش رہے ہیں ۔کیچ میں دو بڑے سیلاب آئے تھے اور ان دونوں سیلاب میں بہت نقصان ہوا بے حساب لوگ بےگھر ہوگئے اور کئی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ لیکن کیچ کے سماجی تنظمیوں نے عوام کا ساتھ دیا۔

سال 2019 کے آخر میں ایک خطرناک مرض نے جنم لیا اور ساری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لیا اس وقت اس وبائی مرض سے 150,625 سے زائد لوگ زندگی سے ہاتھ دوبیٹھے ہیں اور 2,227,669 سے زائد لوگ اس مرض میں مبتلاہیں اور ساری دنیا لاک ڈاون ہوگیاہے۔ لاک ڈاون کی وجہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنے ہے خاص کر مزدور طبقہ جو کے بہت پریشان ہے

اس موقع پر کیچ کے سماجی تنظمیوں نے اپنے دن رات کو ایک کردیا اور عوام کی خدمات میں مصروف ہیں۔کیچ کے سماجی تنظیمیں اس وقت کیچ کے عوام کو امداد فراہم کررہےہیں جن میں مزدور اور دیہاڑی دار لوگ بھی ہیں۔کیچ کے سماجی تنظیم کیچ کے مختلف علاقوں میں راشن فراہم کرچکے ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن کیچ،گلزار ویلفیئر ٹرسٹ ،الخیرالناس ٹرسٹ،رائزنگ یوتھ آف بلوچستان، رضاکار ویلفیئر ٹرسٹ ،اوست ویلفیئر ٹرسٹ ،کور کمیٹی ودیگر سماجی تنظمیں خدمت خلق میں مصروف عمل ہیں ان کی خدمات قابل ستائش ہیں اور اللہ پاک سے دعاہے کہ ان کو ہمیشہ سلامت رکھے اور زندگی میں برکت عطافرمائے۔ آمین

8 مئی تھیلیسیمیا کا عالمی دن : تحریر:اورنگ زیب نادر


تحریر: اورنگ زیب نادر

سال 1994 میں تھیلیسیمیا انٹرنیشنل فیڈریشن نے 8 مئی کو تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے طور پر منایا۔  اس دن کو جارج اینگلزوس کی محبت بھری یاد میں بین الاقوامی طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔  ہر سال 8 مئی کو متاثرین کی حوصلہ افزائی کے لیے منایا جاتا ہے اور ان کی ہمت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ وہ اس کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں جو کہ قابل تحسین ہے، اور اس دن کو منانے کا مقصد بھی اس کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔  تاہم، سال بہ سال تھیلیسیمیا کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق عالمی آبادی کا 1.5% تھیلیسیمیا کیریر ہیں۔  پاکستان میں حیران کن طور پر ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ مریض تھیلیسیمیا کے شکار ہیں اور ہر سال 5000 سے 9000 بچے سالانہ اس مہلک مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

 مزید یہ کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے بے شمار تنظیمیں جدوجہد کر رہی ہیں لیکن حکومت کی مدد کے بغیر یہ ناممکن ہے۔  افسوس کی بات ہے کہ حکومت پاکستان اس سنگین مسئلے پر توجہ نہیں دے رہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں سال بہ سال اضافہ ہو رہا ہے۔  ایران، قبرص، اٹلی اور یونان سمیت بہت سے ممالک جو تھیلیسیمیا کے کیسز پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں ان ممالک میں پاکستان کے مقابلے بہت زیادہ بوجھ تھا لیکن وہ اپنے معاشرے سے تھیلیسیمیا کو کامیابی سے ختم کرنے میں کامیاب رہے۔  ان ممالک میں کئی سالوں سے تھیلیسیمیا کے مرض کی کوئی نئی پیدائش نہیں ہوئی ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ، ان ممالک نے تھیلیسیمیا کی موجودہ آبادی کو مناسب طریقے سے منظم کرنے کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے بہترین پروگرام تیار کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی حکومت اس مسئلے پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

 اس طرح، تھیلیسیمیا پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے حالانکہ سندھ اور بلوچستان کے صوبوں، بلوچستان اور سندھ میں صحت کا شعبہ ابتر حالت میں ہے اور یہ صوبے تھیلیسیمیا کے زیادہ بوجھ کے طور پر ہیں۔  پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اندازے کے مطابق β-تھیلیسیمیا کے 2,000 بچے ہیں۔  ان بچوں کو بقا کے لیے باقاعدگی سے خون کی منتقلی کی ضرورت کی وجہ سے منتقلی سے منتقل ہونے والے انفیکشنز کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔  صرف ضلع کیچ میں، کیچ تھیلیسیمیا کیئر سنٹر میں 350 سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں۔  بلوچستان میں مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ۔  حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت اس کو سنجیدگی سے لیں اور اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

 مزید برآں تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ نہیں کراتے، شادی سے پہلے ٹیسٹ کرانا ضروری ہے لیکن ہم اس سے گریز کر رہے ہیں۔  بحیثیت فرد، ہم شادی سے پہلے اپنے ٹیسٹ کر کے اس مہلک بیماری کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور آگاہی کے لیے آگاہی پروگراموں میں بھی شرکت کریں۔

 بالآخر، اس دن کے موقع پر، میں دنیا بھر میں تھیلیسیمیا کے جنگجوؤں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کی ہمت قابل تعریف ہے۔  میری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ اس کے خاتمے کے لیے تنظیموں کی مدد کریں اور اسے سنجیدگی سے لیں تاکہ پاکستان تھیلیسیمیا سے پاک ملک بن جائے اور ساتھ ہی میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ خون کا عطیہ دیں تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں۔