تربت یونیورسٹی سیداحسان شاہ کا ایک عظیم کارنامہ ہے : تحریر: اورنگ زیب نادر

کوئی تبصرے نہیں



تحریر: اورنگ زیب نادر

جو قومیں علم کے زپور سے آراستہ ہوں اور ان کے لیڈر اور قائدین تعلیم یافتہ اور علم دوست ہوں تو ان کو کوئی بھی ترقی سے روک نہیں سکتا کامیابی و کامرانی ان کے قدم ضرور چومے گی اور خوشحالی ان کا مقدر بنے گی یہ کیچ کے عوام کی سعادت اور خوش قسمتی ہے کہ انہیں سیداحسان شاہ جیسا علم دوست لیڈر اور نمائندہ ملاہے جو علاقے میں علم کے فروغ کے لئے انتھک کوششیں اور جدوجہد کررہےہیں کیونکہ وہ خود ایک تعلیم یافتہ(Educate) شخص ہیں اقر انہیں تعلیم اور اہل علم سے خصوصی محبت ہے اور وہ کیچ کو ایک مثالی تعلیمی ضلع بنانے کا عزم اور تہیہ کئے ہوئے ہیں اور ان کی یہ کوششیوں نے رنگ لایا ہے۔اس وقت تربت یونیورسٹی پاکستان کے بڑے یونیورسٹیوں میں شمار ہے۔

یہاں کے طلباء وطالبات کو گریجویشن کے بعد پوسٹ گریجویشن کے لئے کوئٹہ جانا پڑتاتھا جو کہ ان کے لئے انتہائی مشکلات اور تکالیف کا باعت تھا کیونکہ یہاں کے لوگوں کی اکثریت غربت کا شکار ہیں اور ان کے پاس اتنی مالی استطاعت نہیں ہوتی کہ وہ اتنی دور علم کے حصول کے لئے جاسکیں اوع کوئٹہ آنے جانے کا دشوار گزار اور تکلیف دہ راستہ ایک غذاب اور سزا سے کم بھی نہیں ہے۔سیداحسان شاہ کو یہاں کے طلباءطالبات اور لوگوں کی ان تکالیف اور مشکلات کا اچھی طرح سے احساس اور اندازہ تھا اقر وہ ان کی تکالیف کو سجھتا تھا انہوں نے کیچ بلکہ پورے مکران کے لئے وہ تاریخی اور ناقابل فراموش کارنامہ "تربت یونیورسٹی" کی صورت میں انجام دیاجوکہ ہمیشہ یاد رکھاجائے گا تربت یونیورسٹی کے قیام سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب مکران بھر کے طلباءطالبات اپنے ہی علاقے میں اعلی تعلیم حاصل کرسیکں گے تربت یونیورسٹی جو کہ یہاں کے طلباءطالبات اور لوگوں کا ایک دیرینہ مسئلہ اور مطالبہ تھا اور کوئی یہ تصور ہی بھی نہیں کرسکتا تھا کیچ میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں آئے گایہ ایک خواب تھا جسے کیچ کے ہردلعزیز لیڈر اور رہنماء سیداحسان شاہ نے شرمندہ تعبیر بنایا۔

یہ ان کی علم دوستی کا منہ بولتا اور واضع ثبوت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔واقعی یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا اگر کوئی اس سے انکار یا اس کی مخالفت پر اترآئے تو وہ عقل سے عاری اور بلوچ اور علم دشمن تصور کیاجائےگا۔نا نہاد قوم پرست جو کہ اپنے آپ کو بلوچ قوم کا سب سے بڑا علمبردار اور خیرخواہ ظاہر کرتےہیں لیکن کسی نے بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ہے حالانکہ وہ وزیراعلی اور تعلیم جیسے شعبے کے سیاہ وسفید کے مالک بھی رہے ہیں اور وزارتوں کے مزے بھی انہوں نے لوٹے ہیں اور تاحال وہ پارلیمنٹ کا حصہ بھی ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے تعلیم جیسے اہم شعبے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کیاہے بلکہ انہوں نے قوم کے معماروں کے مستقبل سنوارنے والوں (اساتذہ کرام) کو معاشی حوالے سے مزید پیچھے دھکیلنے کے لئے سی اے کو فریز کیاتاکہ اساتذہ کرام معاشی حوالے سے مزید کمزور ہوں اور وہ یکسوئی سے قوم کے معماروں کو زپور تعلیم سے آراستہ نہ کرسکیں کیا یہی قوم پرسی ہی کہ قوم کو خوشحال اور تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے ان کو مزید تاریکیوں کرنے والوں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

لیکن سیداحسان شاہ نے اپنے تینوں دور وزارت میں جس شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت اور ترجیح دی ہے اور کوششیں کی ہیں وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔(پبلک لائبریری) کا قیام بھی ان کی کوششوں اور جدوجہد کی مرہون منت ہے اور ان کی علم دوستی کو ظاہر کرتاہے جوکہ یہاں کے طلباءاور اہل علم کے لئے ایک نعمت کبری سے کم نہیں ہے۔سیداحسان شاہ جب بھی یہاں کے دورے پر آتے ہیں تو وہ تعلیمی اداروں کا دورہ ضرور کرتےہیں اور طلباءطالبات اساتذہ کرام اور تعلیم ذمہ داران سے ضرور ملاقاتیں کرتےہیں اور ان کو درپیش مسائل معلوم کرکے انہیں حل کرنے کی خصوصی کوششیں کرتے ہیں۔ کیچ کی عوام نے سیداحسان شاہ کی اس کارنامہ کو سراہاہے۔کیچ کے عوام کو ایسے علم دوست لیڈر اور نمائندے پر فخر ہے اور ایسے لیڈر اور نمائندہ قوم کا سرمایہ ہوتےہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں