تحریر: اورنگ زیب نادر
نجی ٹیلی ویژن اے آر وائی نیوز پر ایک پروگرام کئی برسوں سے ہورہاہے، جس کا نام سرِعام ہے اس کے میزبان جناب اقرار الحسن ہیں' اس پروگرام کا مقصد معاشرے اور ملک میں جو برائی اور بدعنوانی ہورہی ہےان کو بےنقاب اور منظر عام پر لانا تاکہ ملک میں بہتری آسکے۔ میں اس پروگرام کو بہت شوق سے دیکھتاہوں میں تقریباً اس پروگرام کو 5 سے 6 سال سے دیکھ رہاہوں۔ اقرار الحسن اسے ایک فرض سمجھ کر کررہےہیں ان کو اس پروگرام کو کرتے ہوئے کئی دفعہ حملہ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑاہے حتٰی کہ ان کو مارنے کی دھمکی بھی دیے گئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس سفر کو جاری رکھا ہے۔
گذشتہ دنوں آئی بی افسران کی جانب سے سرِعام کی ٹیم پر تشدد کیاگیا، ان پر اس قدر تشدد کیاگیا جو کے ناقابلِ بیان ہےجو تشدد اور بربریت ہوسکتاتھا انہوں نے کیا۔
اس حوالے سے صحافی اقرار الحسن نے اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے انسپکٹر کی کرپشن بےنقاب کرنے پر انہیں اور ان کی ٹیم کو آئی بی کے دفتر میں برہنہ کرکے کرنٹ لگایا گیا اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔‘
ٹیم اور خود پر تشدد کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر آئی بی کے افسر کے کرپشن کے ثبوت منظر عام پر لائے گئے تو ان کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آ جائیں گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کرپشن کو سامنے لانے پر ہمیں تین گھنٹے تک بند رکھا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجھے سر پر آٹھ، دس ٹانکے آئے ہیں۔ باقی تمام ٹیم ممبران ٹھیک ہیں جب کہ دو اراکین کے مخصوص اعضا کو بجلی کے جھٹکے لگائے گئے جس کی وجہ سے وہ شدید تکلیف میں ہیں۔‘ واقعے کے متعلق دیگر معلومات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’انٹیلیجنس بیورو کے انسپکٹر دفتر کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر رشوت لے رہے تھے، ہم نے انہیں (سٹنگ آپریشن کی غرض سے) رشوت دی اور ثبوت لے کر اندر گئے تاکہ ان کے افسران کو اس سے آگاہ کیا جا سکے، تاہم دفتر میں موجود ڈائریکٹر سید رضوان شاہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہمیں برہنہ کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔’
ٹیم سرِعام پر جس طرح تشدد کیا گیا اس طرح کوئی دشمن کے ساتھ نہیں کرتاہے ۔ حسبِ معمول اس واقعہ کا نوٹس لیاگیا اور ان افسران کو معطّل کیاگیا ، چاہیے تھا ان افسران کو ملازمت سے فارغ کیاجاتا۔
میں مردِ مجاہد اقرار الحسن کو سلام پیش کرتاہوں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ان کا ہمت اور حوصلہ داد کے مستحق ہے ان کا کہنا ہے جب تک زندہ ہو سرزمین پاکستان کی خدمت کرتا رہونگا ، ماؤں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں انشاءلله آپ کو کچھ نہیں ہوگا اسی طرح اس سفر کو جاری رکھیں ، اللہ پاک آپ کو اور ٹیم سرِعام کو اپنے حفظ و امان رکھے۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں