کیچ کلچر سنٹر اور ہماری بے حسی: نزیر بلوچ

کوئی تبصرے نہیں


تحریر : نزیر بلوچ

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنی ثقافت اور پرکھوں کی امانت کو محفوظ رکھا ، اسے شناخت برقرار رکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی ۔ انسانی بستیاں قدیم زمانوں سے زمین پر پنپتی رہیں اور معدوم ہوتی گہیں ۔ اُن مِٹتی تہذیبوں کی بقایا جات نسلوں کی شناخت کا باعث ہیں۔ دنیا کے تمام ذی شعور قومیں اپنی شناخت اِنہی اجڑے بستیوں سے جڑے رکھتے ہیں اور اپنی تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کی ادراک ہونی چاہیے کہ ہم جہاں رہ رہے ہیں اس کی تاریخ کتنی پرانی ہے اور ہم سے پہلے یہاں سانس لینے والے کس طرز معاشرت کے آئینہ دار تھے۔
آثار قدیم پر یورپ اور امریکہ برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ اس کی مدد سے وہ نہ صرف اپنی تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ دنیا کے دوسرے قوموں کی تاریخی تشخص سامنے لانے میں پیش پیش ہیں۔ آج سے کم و بیش تیس چالیس سالوں سے یورپ کے آثار قدیمہ کے ماہرین بلوچستان کے پرانے تہذیبوں کے آثار مختلف قدیم معدوم بستیوں میں ڈھونڈ رہے ہیں اور اپنے ٰمیوزیموں کی زینت بنا رہے ہیں۔ مگر افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم اپنی دھرتی کے کھوک میں محفوظ اپنی تاریخی نوادر اشیاء کو اونے پونے داموں بیچ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری کم علمی اور بے حسی روز بروز ہمیں اپنی پرانی تہذیبوں سے جدا کرتی جارہی ہے۔ ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہورہا کہ جانے انجانے میں ہم ان نشانیوں کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں جو نہ صرف ہماری نہیں بلکہ ساری نوع انسانی کی امانت ہیں۔ 
بلوچستان قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے۔ مہر گرھ اور میری سے ملنے والے اشیاء  یہ ثابت کر چکے ہیں کہ دنیا کی قدیم مہذب تہذیبوں کا جنم یہی سے ہوا تھا مگر علمی بغض و کینہ انہیں سامنے لانے سے کترا رہی ہے۔ اس میں خارجی محققین کا کوئی قصور نہیں ہے ، یہ ہماری کم علمی، لاتعلقی اور بے حسی ہے جس کی وجہ سے ہمارے وسائل کے ساتھ ساتھ ہماری تہذیب بھی لٹ رہی ہے۔ اسی طرح ثقافت کے زندہ رکھنے کے لئے ثقافت کے مختلف  جزئیات سے جڑنا  بھی لازمی ہے جن میں موسیقی، رسم و رواج اور دوسرے زندگی کے معمولات ہیں۔
کیچ کلچر سینٹر اینڈ میوزیم تربت کی بنیاد انہی ستونوں پر استوار کی گئی۔ قدیم نوادرات  کو محفوظ پناہ گاہ   دینے کی کوشش کی گئی۔ تربت شہر کے قلب میں واقع  کلچر سنٹر اور میوزیم  کی شاندار عمارت کو دیکھر کہیں گدھوں کی نظر للچائی اور اسے مردار سمجھ کر ہتھیانے کی کوشش بھی کی گئی مگر یہ ابھی تک زندہ ہے کیونکہ کچھ زندہ لوگ  اسے بلوچ کلچر کا آکسیجن سمجھتے ہیں اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں لوگ بھی اس کی اہمیت پہنچانے گیں ۔
کیچ کلچر سنٹر میں آرٹ اور موسیقی کے کلاسوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ جہاں فائن آرٹس،پینٹنگ، ڈرائینگ، خطاطی و کیلگرافی، دمبورگ،سروز،بلوچی ترز،عہدی شعر گوئی،بلوچی کلاسیک موسیقی، ہارمونیم،بینجو اور طبلہ سکھائے جارہے ہیں۔ قدیم بلوچی ادب اور موسیقی کو ایک نسل سے دوسرے نسل میں منتقل کرنے کی ایک پر تحسین کوشش ہے۔ ادارے میں باقاعدہ اساتذہ  تعینات کیے جاہیں تاکہ یہ کام  بخوبی چل سکے۔فنکاروں کی عزت افزائی اور اپنے جڑوں سے پیوستہ لوگوں کی قدرشناسی ہم سب پر قرض ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں