تحریر: نعیم بلوچ،صدر پی پی پی رخشان ڈویژن
آصف علی زرداری پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا مظلوم کردار ہے اس ملک میں سابق صدر مرد حر آصف علی زرداری کی میڈیا کے ایک مخصوص حصے نے جتنی کردار کشی کی دنیا میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی پاکستان میں بیشتر صحافیوں کے روپ میں میڈیا پر دشمن عناصر قابض ہیں گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل آصف علی زرداری کی کردار کشی ہورہی ہے آخر یہ آصف علی زرداری کس مٹی سے بنا ہوا ہے کہ جس کو گرانے والے خود گرتے گئے مگر آصف علی زرداری چٹان کی طرح مضبوطی سے اپنے جگہ سے نہیں ہلا۔ بہتان تراش خود کیچڑ میں غرق ہوتے رہے مگر ہر بار عدالتوں سے زرداری سرخرو ہو کر نکلا تیروں کے نشتر سہنے والے اس عظیم انسان نے آج تک کسی سے کوئی شکایت نہیں کی۔ وہ کونسے الزامات تھے جو اس نڈر بےباک انسان پر نہیں لگے سارے الزامات کی نفی اس نے اپنے کردار سے کیا۔ شہید جمہوریت دختر مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر پوری قوم غم سے نڈھال اور ریاست سے سخت ناراض تھی، سندھی بلوچ پشتون سرائیکی پاکستان نہ کھپے کا نعرہ سر عام لگا رہے تھے حکومت پر قابض فورسز خوف کی وجہ سے بلوں میں گھس گئے تھیں ریاست ہوا میں تحلیل تھی، تین دن تک ریاست کا نام ونشان کہیں نظر نہیں آرہا تھا سب کو یقین ہو چکا تھا کہ پاکستان بکھر گیا ہے اب یہ کتنے ٹکڑوں میں بٹے گا اس کا اعلان ہونا باقی ہے کسی کو توقع ہی نہیں تھی کہ آصف علی زرداری تمام زخموں کو بھول کر پاکستان کو بچائے گا۔ آصف علی زرداری وہ شخص تھا جس پر ریاست نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تھے بس سب کو انتظار تھا کہ آصف علی زرداری کب پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں عوام کا فیصلہ آچکا تھا سندھ بلوچستان اور اسوقت کے سرحد سے پاکستان نہ کھپے کے نعرے گونج رہے تھے بس انتظار تھا آصف علی زرداری کی لب کشائی کا آخر کار غم سے نڈھال زرداری اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے پاکستان کو بچانے کے لئے میدان میں آئے سب کو مطمین کرکے شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو کی قبر پر جواب میں پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر بکھرے ہوئے ریاست کو پھر سے باہم آپس میں جوڑ دیا جمہوریت کی بحالی کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خون کا بہترین انتقام قرار دیا۔ آصف علی زرداری نے عوام کے غم کو جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں بدل دیا جہاں محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا وہاں سے جمہوریت کی بحالی کا الم اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا عوام کو منظم کر کے سہارا دیا الیکشن لڑنے کے لیے اپنے حریفوں کو راضی کیا آصف علی زرداری سیاسی مفاہمت کا بادشاہ ہیں جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں جب اقتدار میں آتے ہیں تو عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ آصف علی زرداری کو اقتدارملا تو سب سے پہلے اس نے آمر مشرف کو اقتدار سے علیحدہ کیا آئین پاکستان کو مکمل بحال کیا، سوات سمیت تمام قبائلی علاقوں میں پاکستان کا پرچم لہرایا، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کے وسائل پر مکمل اختیار دے کر وفاق پاکستان کو مضبوط کیا۔ اس بہادر انسان نے زندگی میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا کسی سے معافی نہیں مانگس مگر ریاست کی گناہوں کی بلوچوں سے معافی مانگ کر بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھا آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے پیکج دے کر احساس محرومی اور پسماندگی کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامت کیے ریاست سے ناراض بلوچوں کو دلاسہ دے کر گلے سے لگایا، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں سو فیصد اضافہ کیا، سی پیک کی بنیاد رکھی گوادر پورٹ کو سنگاپور سے واپس لیا، پاکستان کی سر زمین پر قائم امریکی ڈرون کے اڈوں کو خالی کروایا، اپنے ہی حکومت میں روز عدالتوں کا سامنا کیا پھر بھی زخم خوردہ آصف علی زرداری کےصبر واستحکامت میں کمی نہیں آئی میڈیا کے ذریعے زرداری کو بد سے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی مگر کہتے ہیں عزت اور ذلت دینے والا اوپر کی ذات ہے سب دشمن مل کر اس بہادر انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے میمو گیٹ اسکینڈل میں کس کس نے ٹائی کوٹ پہن کر زرداری کو غدار ڈیکلیر کرنے کی کوشش نہیں کی مگر کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہیں مگر پھر بھی آصف علی زرداری نے ہر مشکل گھڑی میں جمہوریت کو ڈی ریل ہونے نہیں دیا اپوزیشن میں ہوتے ہوئے نوازشریف کو استعفیٰ دینے سے روکا اور کنٹینر پر کھڑے عمران خان کا سامنا کرکے جمہوریت کو بچایا اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پارلیمنٹ میں نئی روایت قائم کرکے جمہوریت پسندی کا ثبوت دیا ہر ہمیشہ وہ ملک اور آئین کو مقدم مانا آصف علی زرداری کو پاکستان سے وفاداری کی سزا دینے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کئیے گئے مگر اس وفادار انسان نے کبھی اپنے وفاداری پر آنچ نہ آنے دی۔ ان کو عوام کی خدمت سے روکنے اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے مگر وفادار بلوچ وفاداری نبھاتے رہے بڑھاپے میں بھی بیساکھیوں کا کبھی سہارا نہیں لیا۔ اس کی خوداری پر آج تک کوئی حرف نہیں آیا الزامات لگانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی آصف علی زرداری نے ثابت کیا وہ مرد آہن ہیں اسے قیدوبند کی اذیتیں سازشیں پیران مردی میں بھی توڑ نہیں سکتے۔ جوانی کے قیمتی سال بغیر کسی جرم کے پہلے ہی وہ عقوبت خانوں میں گزارے تھے آج بھی وہ ہنستے مسکراتے ہیں اپنے اوپر ڈھائے مظالم کا شکوہ وہ کسی سے نہیں کرتے وہ اس لئے مرد حر اور مرد بحران ہیں کہ وہ ہر مشکل امتحان اور سخت سے سخت بحران میں سرخرو ہو کر نکلے ہیں صدر زرداری کا پاکستان کھپے کا نعرہ صدیوں تک ریاست پر قرض رہیگا۔ ملک کو چیلنجز اور بحرانوں سے صرف اور صرف صدر زرداری ہی نکال سکتے ہیں کیونکہ وہ چیلنجز اور بحرانوں کا بہادری سے مردانہ وار مقابلہ کرنا جانتا ہے آج وہ پیراں سری میں اپنے بیماری کے حالت میں اپنے اکلوتے نوجوان بیٹے کے ساتھ میدان میں ہیں وہ جمہوریت کی مکمل بحالی چاہتے ہیں وہ خطرات میں گرے ہوئے پاکستان کو پھر سے بچانا چاہتے ہیں وہ عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی علاج کرنے لندن جا سکتے تھے مگر اس نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کئے گئے عہدوفا کا مکمل پاس رکھا انھوں نے اپنی زندگی پاکستان اور عوام کے لیے واقف کر رکھی ہے اس لئے زرداری نام ہے وفاداری کا زرداری نام ہے کٹھن منزلوں کے راہی کا زرداری نام ہے صیح رہنمائی کا آج پاکستان کو آصف علی زرداری کی ضرورت ہے وہ اقتدار عوام کے خوشحالی کے لئے چاہتے ہیں عوام کے تکالیف اور مصائب کو آصف علی زرداری سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے اس لئے ہم کہتے ہیں ایک زرداری سب پر بھاری۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں