گھنہ پھلانی تربت کے اھم سیاسی و سماجی شخصیات عبدالطیف ولد سردوک،کہدہ جان محمد ولد کریم بخش،اختر آدم کی سربراہی میں سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی و سماجی کارکنان نے خاندانوں سمیت پی این پی عوامی سے مستعفیٰ ہوکر نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
شمولیتی پروگرام میں مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی،مرکزی رہنما سینٹرل کمیٹی کے رکن واجہ ابوالحسن بلوچ اور نیشنل پارٹی کیچ کے ضلعی جنرل سیکرٹری فضل کریم نے خطاب کیا،
اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبران محمد جان دشتی،رجب یاسین،سابق ضلعی صدر محمد طاہر،ضلعی انفارمیشن سیکریٹری ولی جان نعیم زعمرانی،تحصیل بلیدہ کے آرگنائزر محمد عظیم،تحصیل آبسر کے صدر محمد اقبال،کریم جان نور،ہیڈماسٹر لیاقت،کہدہ دوستین،چئیرمین ناصر رند،طارق رسول بخش،نعیم عادل،عبداللہ،حاجی محمد ہاشم،نثار احمد،لالا رسول بخش،ماسٹر مسلم،ماسٹر اختر حامد،اسلم میرین،اسلام،ظریف عمر،امان اللّٰہ،محمد علی،ماسٹر عبدالمجید،ماسٹر کریم بخش،ماسٹر ناصر،شاکر،گلزار کریم سمیت کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کیا۔
شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ھو رہا ہے لوگ جوق در جوق پارٹی میں شمولیت اختیار کررے ھیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی قومی کی حقیقی نمائندہ جماعت ھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مفادات کو تحفظ دینے کا جو حلف اٹھایا ھے اس پر ایمانداری کے ساتھ عمل کررے ھیں۔ ریکوڈک سمیت بلوچستان کے تمام ایشوز پر ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔
شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ھیں یونیورسٹی ، میڈیکل کالج، سٹی پروجیکٹ، بس ٹرمینل اور کلچر سینٹر وغیر اسکی مثالیں ہیں جب کی دوسری طرف حکمران نے ہر گھر میں تین تین نوکریوں کا وعدہ کرکے عوام کو دھوکہ دیا۔ مقررین نے مزید کہا کہ جو لوگ آج یہ کہہ رئے ھیں کہ قدوس بزنجو کو وزیر اعلی بنانے کے گناہ میں شامل نہیں یاد رہے انہوں نے ایک بار نہیں بلکہ دو بار باپ کی حکومت اور قدوس بزنجو کی حکومت بنانے میں ساتھ دیا۔ اگر وہ واقعی اس عمل کو گنا سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے عوام اور قوم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں