مائیگیروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، سیھٹوں اور کمپنی مالکان کی استیصال کے خلاف متحد ہونے کا فیصلہ۔
آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے سیٹھ الہی عیسی کو بھی مائی گیر ویلفیئر سوسائٹی کی صدارت سے فارغ کردیاگیا نئے صدر کا انتخاب جلد متوقع۔
مائی گیروں کی ہنگامی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
ماہیگیرویلفیئر سوسائٹی کے نائب صدر ناخدا جماعت کی سربراہی میں ناخدا رزاق کی رہائش گاہ پر مائیگروں کی جانب سے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مائیگیر ویلفیئر سوسائٹی کے کابینہ ممبران سمیت عام مائی گیروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
مائیگیروں کی جانب سے باہمی اتفاق رائے کے بعد مائیگیر ویلفیئر سوسائٹی کے تمام کابینہ کے عہدیداروں نے مشترکہ طورپر سیٹھ الہی عیسی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ موصوف مائیگیروں کا کم فیکٹری مالکان کا نمائندہ زیادہ لگتاہے۔ اب ہم استیصال برداشت نہیں کرینگے۔
مائیگیروں کی اجتماع سے ناخدا عنایت،ناخدا انور،ناخدا صغیر،ناخدا لیاقت، ناخدا عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا پسنی کے ساحل سمندر پر فیکٹری مالکان اور مچھلی کے بڑے بیوپاریوں کی من مانیاں نا قابل قبول ہیں۔ سمندر ہمارا زریعہ معاش ہے اسکی بے دردی سے لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔
انکا مزید کہناتھا سندھی مائیگیروں سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں وہ بھی پاکستانی ہیں اور ہمارے بھائی ہیں۔ بے شک وہ بھی مائیگیری کریں۔ مگر ہم انکی سرپرستی کو قبول نہیں کرسکتے۔
فیکٹری مالکان اور مقامی سیٹھوں کی جانب سے 1,1 کروڑ روپے میں سندھی ناخدا بعمہ مائیگیروں کی خرید و فروخت کے زمہ دار مقامی مائی گیر نہیں ہیں۔ روزگار کے نام پر انسانوں کی خرید و فروخت کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ساحل پسنی کو فیکٹری مالکان اور سیٹھوں کے زرخریدہ مزدورں کے ہاتھوں 24 گھنٹے لوٹنے نہیں دینگے۔ ہر چیز کا اوقات کار ہوتاہے۔
ساحل سمندر پسنی پر پہلا حق مقامی ماہیگیروں کا ہے نہ کہ فیکٹری مالکان یا بیوپاریوں کا ہے۔
گزشتہ روز فیکٹری مالکان اور سیٹھوں کی جانب سے مائی گیری کے شکار پر قدغن کے نام پر غلط پروپگنڈہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ مائی گیری آج کے بعد سیٹھ الہی عیسی کو مائیگیروں کا نمائندہ تصور نہ کریں۔
بلکہ مظلوم مائیگیروں کی نمائندگی اب مظلوم مائیگیر خود کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں