تحریر: اعجاز احمد بلوچ کیچ
مجھے یقین ہی نہیں آتا کہ بشیر احمد مجاہد صاحب ہمیں یوں چھوڑ گیا۔آج جب مجھے مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ کے فرزند ارجمند شریف احمد مجاہد بلوچ نے کہا کہ آج اسکے والد محترم بشیر احمد مجاہد کی دوسری برسی ہے تو مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ سے وابستہ یادیں یاد ائی۔
مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ ایک انتہائی زیرک،فہم و فراست ، مخلص،ایماندار اور سچے انسان تھے۔جب کیچ مکران ان دنوں انتہائی پسماندہ تھے مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ نے محنت ،لگن اور جستجو کی جس کی انتھک کوششوں اور محنت کی وجہ سے پورے پاکستان میں سی ایس ایس امتحان میں امتیازی نمبرزکے ساتھ کامیاب ہو کر پہلے بلوچ و بلوچستانی کا اعزاز حاصل کیا۔
مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ کی زندگی و خدمات کا احاطہ فقط چند جملوں میں نہیں کرسکتا ہوں۔جب کبھی کس کو بھی مرحوم بشیر احمد مجاہد کے صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملتا وہ اس کا گرویدہ ہوتا اور دوبارہ ان سے ملنے کا طلبگار ہوتا۔ان کی بلوچ دوستی،مہمان نوازی،خلوص اور بے شان ہونا ان کے اوصاف رہے ہیں۔
میں جب کبھی ملتا تو مرحوم کو انتہائی نفیس اور عمدہ شخصیت پاتا۔اس جیسے اعلی پائے کے عظیم انسان واقعی میں ایک گوہر نایاب ہیں۔
مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ کے کلاس فیلوز اکثر کہتے ہیں کہ انہوں نے مرحوم بشیر احمد مجاہد کو انتہائی لائق،فائق،ذہین اور محنتی پایا۔ہر انسان سے گھل ملتے تھے۔انکم ٹیکس کے سینئر ترین کمشنر تھے مگر کبھی بھی یہ محسوس تک ہونے نہیں دیا کہ وہ اس پوزیشن میں تھے۔انتہائی سادہ،انسان و غریب پرور تھے
آج 21 جنوری کو مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ کے دوسری برسی پر ان کے لازوال خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بشیر احمد مجاہد بلوچ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں