تباہی مچا دی ہے۔
اکثر و بیشتر علاقے پانی میں ہیں، گھروں تک پانی پہنچ گیا ہے جس کی وجہ سے بچوں اور عورتوں کو بچانے کیلئے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کشتیاں بلا کر بچوں اور عورتوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔
گوادر انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ابھی تک گوادر میں کئی محلے پانی میں تیر رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے بس سوشل میڈیا تک ایمرجنسی نافذ ہوئی ہے۔
دوسری طرف پاک آرمی کے جوان بھی میدان میں آ چکے ہیں وہ بھی ریسکیو آپریشن میں شہریوں کا ہاتھ بٹھانے کی کوشش میں لگے ہیں مگر زیادہ تر لوگوں کے مطابق ان سے نہ کوئی رابطہ کیا گیا ہے اور نہ ان کی مدد کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملہ آیا ہے۔
سوشل میڈیا میں لوگ گوادر کی اس تباہی کا زمہ دار گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو قرار دیتے نظر آ رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ گوادر میں اگر GDA مخلص ہو کر گوادر کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرتا تو آج پورا گوادر پانی میں نہ تیر رہا ہوتا۔


کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں