اس تنازعے نے جام اور خان کے درمیان خلیج پیدا کردی،جام واپس لسبیلہ چلے گئے۔کچھ وقت کے بعد خان نصیر خان اور جام علی خان دونوں فوت ہوئے۔اس وقت میرے دادا جام میر خان چھ برس کے تھے لہذا عنان اقتدار میرے پڑ دادی بی بی نود کے ہاتھوں رہی۔ریاست کے عوام اس بات پہ ناخوش تھے کہ عنان حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو لہذا بغاوت نے سر اٹھانا شروع کیا۔لہذا انھوں نے گوادر اور راس خیمہ سے اپنی افواج واپس بیلہ بلائی۔کچھ سپاہی گوادر اور راسخیمہ میں ٹہرے جن کی نسل آج بھی وہاں رہتی ہے جن میں جاموٹ،شیخ،رونجھو،شاہک،انگاریہ،برفت،برہ،موندرہ،وغیرہ شامل ہیں۔مسقط کے قصبے جانبازمیں شیخ قبیلے کے بزرگوں میں سے شیخ عمر کا گنبد وہیں پہ ہے۔یہ تمام حقائق میں نے اپنے والد اور دادا سے سنے ہیں۔مزید میں نے اورماڑہ میں بھی مراسلہ بھیجا ہے جیسے ہی کوئی معلومات ملتی ہیں تو آپ کو آگاہ کروں گا۔
جام کے بتائے گئے معلومات کے مطابق گوادر جام میر خان کو بی بی سلطان خاتون سے شادی کے بعد ملی تھی۔سلطان خاتون نصیر خان اوّل کے بیٹی اور جام غلام شاہ کے بیوہ تھے۔معاملے کو مزید سہل بنانے کے لیے میں سالیانے خاندان کے تمام افراد کی فہرست جنھوں نے لسبیلہ پہ حکمرانی کی ہے بھیج رہا ہوں اس کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے خوانین کی فہرست بھی منسلک ہے۔سلطان خاتون کی جام میر خان اوّل سے شادی کی تصدیق۔ ٹیٹ نے اپنی تصنیف قلات کے احمدزئی خوانین میں کی ہے۔وہاں مصنف نے لکھا ہے کہ نصیر خان نے لسبیلہ کی آمدنی کا نصف جہیز میں ان کو دیا تھا ۔اس نے گوادر کے متعلق کچھ نہیں بتایا ہے۔جام میر خان اوّل 1776 میں گدی نشین ہوئے ،قریب قیاس یہی ہے کہ اس کے تھوڑے عرصے بعد انھوں نے اپنے بھائی کے بیوہ سے شادی کی ہوگی۔یہ یہی وقت ہوگی کہ گوادر نصیر خان کے ہاتھ آچُکی ہوگی۔
(جاری)

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں