پردادا کے ڈائری سے اقتباس: ڈاکٹر شبیر رند

کوئی تبصرے نہیں



ترجمہ : ڈاکٹر شبیر رند

31 جولائی کے شام پنجگور پہنچا۔اگلے روز شدید بارشوں کے سبب ہم تین ہفتوں تک بقیہ علاقوں سے منقطع رہے۔مکران میں عموماً سالانہ اوسط بارش تین سے پانچ انچ ہوتی ہے۔لیکن اس ہفتے پندرہ انچ بارش ہوئی ہے۔دریائے رخشان جو کہ عموماً خشک ہوتا تھا اس وقت تیس فٹ پانی اس سے گزر رہی ہے۔بارش سے پہلے رخشان کے کنارے خشک تھے لیکن بارش کے بعد دو سوفٹ اونچےکھجور کے درختوں کو پانی ماچس کے تیلی کے مانند بہا کر لے گئی۔بارشوں کے سبب درختوں پہ لگی کھجور کے فصل خراب ہوئی۔لوگوں کی زندگی انہی کھجور کے فصل پہ منحصر ہے جسے وہ اجناس کے ساتھ تبادلہ کرتے ہیں۔سڑکوں کے بہہ جانے ،لیویز بیرکس کی منہدم ہونے کے ساتھ ساتھ کھجور کے فصل کے ضائع ہونے کے بعد مجھے قحط کا سامنا تھا۔کوئٹہ سے حکومت کی جانب امداد آنے سے معاملات پہ قابو پایا۔لیویز بیرکس گارے مٹی کے بنے ہیں جن پہ بارش پڑتے ہی یہ عمارت    منہدم ہوتے ہیں  جسے دوبارہ تعمیر کرنا پڑتا ہے۔
میری رہائش جو کہ پہلے لیوی میس ہوا کرتا تھا بچ گیا تھا  ایک رات  پانی ٹپکنے سے میں جاگ اٹھا۔اس کے باوجود اس عمارت سے میں  متاثر رہا  ،خوشی و مسرت جیسی احساس ملی۔

(جاری)

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں