اس کتاب کی مصفنہ پروفیسر دُردانہ زاہدجو کہ تاریخ کے بارے میں خاصا علم رکھتی ہیں۔ انہوں نے سال 2016 میں اپنا ایم فل مقالہ تحریر کی ہے اور اس وقت جامعہ بلوچستان میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ مصنفہ تاریخ کےلیکچرار ہیں۔اس وقت گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تاریخ کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں
شاید مکران سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ہونگی جس نے بلوچ تاریخ پر ایک شاندار کتاب لکھی ہے،اور اس شعبہ میں خواتین کا کرادر کم رہاہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ کتاب بلوچ تاریخ پر لکھی گئی بہترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے جس میں بلوچ تاریخ کو بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیاگیاہے۔
اس کتاب میں بلوچ تاریخ میں میر چاکر رند کا دور حکومت اور اس میں انتظامی وسیاسی حالت،عدل و انصاف،جرائم کی روک تھام،ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور فنی و تعلیمی حالت، شاعری وادب کی ترقی و حوصلہ افزائی ، رقص اور موسیقی ، میر چاکر رند کے دور کے معاشی حالات کے ساتھ ساتھ اُس زمانے میں بلوچستان کے لوگوں کا ذریعہ معاش اور اُس دور میں خوشحال زندگی گزارنے کے لئے زراعت و کاشتکاری بھی بلوچوں میں متعارف ہوچکاتھا۔ان کے ساتھ صنعت و حرفت کا معیار اور تجارتی حالت اور ساتھ ہی رند ولاشار قبائل کے درمیان تیس سالہ خانہ جنگی جس کے نتیجہ میں ان کو مجبوراََ بلوچستان سے ہجرت کرنا پڑا' بہت
سارے واقعات و حالات کا تذکرہ کیاگیاہے۔
سارے واقعات و حالات کا تذکرہ کیاگیاہے۔
مصنفہ نے خوبصوتی سے میر چاکر رند کے دور کو بیان کیاہے انہوں نے لکھا کہ میر چاکر رند سولہویں صدی میں ایک بلوچ سردار تھا۔ اس نے مغل شہنشاہ ہمایوں کے برصغیر کی فتح میں مدد کی۔ انہیں بلوچ عوام کا ایک لوک ہیرو اور بلوچ مہاکاوی ہانی اور شاہ مرید میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ میر چاکر رند سید الشہداء امیر حمزہ ابن عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہیں۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے، وہ بلوچ کے بانی جلال خان کے بیٹے رند خان کی براہ راست اولاد اور اہم بلوچ قبائل کنگ ہوت، لاشار خان، کورا خان اور بی بی جاٹو کے دوسرے بانیوں کے بھائی ہیں۔ میر چاکر رند مند، بلوچستان کے قریب رہتے تھے۔ اس کی اولاد علاقے کے مختلف علاقوں میں منتقل ہو گئی۔ وہ اس کا نام رند بلوچ رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق بلوچ کا اس کتاب کے بارے میں کہنا ہے کہ دردانہ زاہد کی یہ کتاب بلوچستان کی تاریخ پر لکھی جانے والی کتب میں ایک شاندار اضافہ ہے۔مزید کہنا ہے کہ اس کتاب کے مسودے کا میں نے مطالعہ کیا تو اندازہ ہوا کہ اب بلوچستان کی تاریخ کے منتخلف گوشوں پر بہتر انداز میں لکھنے کا آغاز ہوچکاہے کیونکہ پروفیسر دردانہ زاہد نے بلوچ تاریخ کی اس عظیم شخصیت، حکمران کے میں تحقیقی انداز میں کام کرکے یہ ثابت کردکھایا۔
بلوچ تاریخ نے غیروں نے لکھا ہے اور ان کو کوئی غیر مستند کہتاہے اور کوئی نہیں ، بلوچ کم ہونگے جنہوں نے اپنی تاریخ کو خود لکھاہے۔ اور ہم اپنی تاریخ سے واقف ہی نہیں ہیں ۔میں پروفیسر دررانہ زاہد کی اس کوشش کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ انہوں نے بلوچ تاریخ کو زندہ کیا اور نوجوان طبقہ کو بلوچ تاریخ سے آگاہ کیا۔ ان کی یہ کوشش داد کامستحق ہے۔


کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں