تحریر: جمیل رحمت دشتی
کہتے ہیں نشہ ایک ناسور ہے، نشہ ایک لعنت ہے ، نشہ ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے اور پتہ نہیں کئی دیگر باتیں لیکن حقیقت یہ ہے نشہ ایک بیماری ہے اگر کسی کو لگ جائے بعد میں جان کو نہیں چھوڑنے والے۔ ہمارے اردگرد نوجوان نسل کئی قسم نشہ آور چیزوں میں مبتلا ہیں کوئی ہیروئین تو کوئی چرس تریاک اور بہت سارے جن کے نام میں گن نہیں سکتا۔ یہ سارے نشہ آوار چیزیں ہمارے معاشرے کو کئی سال پیچھے دکھیلتا ہے ہمیں اندھیرا اور تاریکی کی طرف بھیج دیتا ہے۔
دشت جو ضلع کیچ کا ایک تحصیل ہے جہاں بنیادی سہولیات دستیاب ہی نہیں ، جہاں آپ کو صاف پانی پینے کے لیے دستایب نہیں لیکن شو مئی قسمت وہاں آپ کو نشہ آور چیزیں باآسانی سے دستیاب ہوتے ہیں یہ اگر کسی المیہ سے کم نہیں تو ہمارے رسوائی کے دن دور نہیں۔
تحصیل دشت کے ہر گاؤں میں آپ کو نشہ بھیجنا والے اور کرنے والے دونوں ملتے ہیں یہ ہمارے ایم پی اے منہ پر تماچہ ہے۔ اس نشہ میں دس سال سے کم عمر کے بچے بھی کسی سے کم نہیں وہ شیشہ، کرسٹر اور دیگر نشہ کرتے ہیں۔ابھی یہ دن بچوں کے پڑھنے اور کھیلنے کے دن ہیں لیکن اوو مئی قسمت کہ ہمارے بچے اپنے ناک اور منہ سے دھواں نکال کر کے خوش ہوتے ہیں۔ شرم آنا چاہئے ہمارے والدین اور ہمارے حکمرانوں کو جن ہم نے ایوانوں تک پہنچا دیا ہے تاکہ وہ ہمارے علاقے کے فلاح ہ بہبود کیلئے کام کریے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ خود انہی کاموں مصروف ہوتے ہیں ۔ جو شخص نشہ آور چیزیں بھیجتا ہے وہ شخص خود انہی کے سرپرستی سے بھیجتا ہے۔
اہلیان دشت کا مطالبہ ہے کے وہ ہمارے علاقے میں اس ناسور کو ختم کرے تاکہ ہمارے علاقے میں نوجوان نسل ایک سیدھی راستے پر چل پڑے۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں