تربت(نمائندگان/گدروشیاپوائنٹ) گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا ایک روزہ دورے پربروزمنگل تربت پہنچ گئے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر جان محمد بلوچ اور پرووائس چانسلر ڈاکٹر منصور بلوچ نے گورنر کو تربت یونیورسٹی آمد پر استقبال کیا،یونیورسٹی میں پولیس کی چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی دی، گورنر بلوچستان نے تربت یونیورسٹی میں پودا بھی لگایا، گورنر بلوچستان نے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور مینجمنٹ سائنس ، کمپیوٹر لیبارٹری اور نو تعمیر شدہ جیم نازیم کا افتتاح کرکے معائنہ کیا۔گورنر بلوچستان نے تربت یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں ہیڈآف ڈیپارٹمنٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے یونیورسٹیز کی بہتر پرورش اور ریفارمز لانے کی کوشش کی جائیگی، یونیورسٹی کے انتہائی قابل اور کوالیفائیڈ پروفیسرز اپنی ٹینلٹ نئی نسل میں منتقل کریں، آج کے جدید دور میں تعلیم کے بغیر ہر شعبے میں ترقی مشکل ہے،تربت یونیورسٹی سے ہرقسم کی مدد اور تعاون کرونگا، گورنر بلوچستان نے کہاکہ آج کے عالم گیریت کے دور میں ہر طبقے کے لوگوں کو تعلیمی سے وابستگی ضروری ہے اور یہی قوت ہے جو انسان کو دوسرے انسان پر سبقت دیتا ہے اور اس کی سوچ کو وسعت دیتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے اساتذہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے معاشرے میں یہ احساس پیدا کریں کہ آج کی دنیا میں تعلیم کے بغیر گزارہ نہیں۔تاکہ ہمارے طلباءمیں مثبت سوچ پیدا ہو اور وہ حصول علم کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر سکیں۔اس دوران انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے ایک خوشی کا مقام ہے کہ تربت جیسے پسماندہ علاقے میں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں خواتین کو تعلیم کی جانب راغب کرنا کسی بڑی اعزاز سے کم نہیں ہے انہوں نے کہا کہ مجھے قوی امید کہ ہمارے خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرکے بلوچستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردینگے۔اس دوران وائس چانسلرڈاکٹرجان محمد بلوچ، پرو وائس چانسلر تربت یونیورسٹی ڈاکٹر منصور احمد، صوبائی محتسب اعلیٰ نظر محمد،گورنر بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری ناصر دوتانی ، مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالروف شاہ ،وائس پرنسپل ڈاکٹراسلم آزار، رجسٹرار تربت یونیورسٹی گنگزار بلوچ،ڈپٹی رجسٹرار میرغوث بخش بلوچ، کمشنر مکران شبیر احمد مینگل،ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ ، پی ٹی آئی مکران ریجن کے سابق صدر وارث دشتی ،یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس، سوشل سائنسز ،ڈین بلوچی لینگویج کلچر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ،ڈین فیکلٹی ORIC ڈاکٹر غلام جان بلوچ،ڈین فیکلٹی آف اکنامکس،کامرس اور ڈین بزنس ڈاکٹر وسیم برکت،ڈین فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجئنیرنگ ڈاکٹر نعیم اللہ، ڈین فیکلٹی آف اکیڈمک ڈاکٹر عدیل احمد، ،ڈائریکٹر QEC ڈاکٹر ریاض احمد اور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد, میڈم مہناز بشیر،میڈم رقیہ گچکی،میڈم سمینہ بلوچ اوردیگر موجود تھے۔کانفرنس روم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے مزید کہا کہ میرے لیے ایک خوشی کا موقع اور فخر کا مقام ہے کہ میں تربت یونیورسٹی کے انتہائی باصلاحیت اور قابل اساتزات کے درمیان موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہمارے معاشرے کے معمار ہو۔اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی تمام ہنر اور توانائیاں ہماری آنے والی نسلوں کو منتقل کردوگے۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا علم کی دنیا ہے۔ اور ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں علم حاصل کرکے ہی بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جو اپنے اساتذہ کی عزت نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اساتذہ کو قدر نگاہ سے دیکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ وہ اپنے علم اور تعلیمی تجربے کو بلوچستان کے دور دراز پسماندہ علاقے میں منتقل کرسکیں۔
اس موقع پر انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے تاکہ ہم اس یونیورسٹی میں اصلاحات لاکر اس کی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرسکیں تاکہ ہمارے ان اقدامات سے یونیورسٹی انتظامیہ اور اکیڈمک اسٹاپ کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے عالم گیریت کے دور میں ہر طبقے کے لوگوں کو تعلیمی سے وابستگی ضروری ہے اور یہی قوت ہے جو انسان کو دوسرے انسان پر سبقت دیتا ہےاور اس کی سوچ کو وسعت دیتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے اساتذہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے معاشرے میں یہ احساس پیدا کریں کہ آج کی دنیا میں تعلیم کے بغیر گزارہ نہیں۔تاکہ ہمارے طلبائ میں مثبت سوچ پیدا ہو اور وہ حصول علم کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر سکیں۔اس دوران انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے ایک خوشی کا مقام ہے کہ تربت جیسے پسماندہ علاقے میں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں خواتین کو تعلیم کی جانب راغب کرنا کسی بڑی اعزاز سے کم نہیں ہے انہوں نے کہا کہ مجھے قوی امید کہ ہمارے خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرکے بلوچستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردینگے۔اس دوران وائس چانسلر تربت یونیورسٹی ڈاکٹرجان محمدبلوچ نے گورنر بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت نکال کر تربت یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ تعلیم کے حوالے سے ایک انتہائی زرخیز علاقہ ہے اور یہاں کے نوجوان تعلیم کے حصول کے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومتی سرپرستی اور توجہ کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم تربت یونیورسٹی کو مزید آگے لے جاکر کامیابیوں کی بلندی پر پہنچا سکیں۔اس دوران انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تربت یونیورسٹی میں اس وقت 4000 ہزار طلباءاور طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ مزید 1500 افراد نے یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے درخواستیں جمع کررکھیں ہیں انہوں نے کہا تربت یونیورسٹی نے دنیا کے مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے جسمیں امریکہ ،برطانیہ اور چین شامل ہیں۔بعد ازاں تربت یونیورسٹی کی جانب سے گورنر بلوچستان اور چانسلر تربت یونیورسٹی ظہور احمد آغا کو خصوصی شیلڈ، بلوچی چادر اور پینٹنگ کے تحائف بھی پیش کیئے گئے۔جبکہ تقریب میں اسٹیج فرائض کی ذمہ داری ڈین فیکلٹی ORIC ڈاکٹر غلام جان بلوچ نے ادا کئے۔آخر میں صوبائی وزیرصحت سیداحسان شاہ کی جانب سے ظہرانہ دیاگیا۔ میزبانی سید تیمورشاہ اور سابق صوبائی وزیر میرغفوراحمدبزنجو نے کی اس موقع پر آل پارٹیزکیچ کے ڈپٹی کنونیئر عبدالغفور کٹور،اسلم وقار اور دیگر موجود تھے۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں