نصف صدی اور تین رہنماء : نعیم بلوچ

کوئی تبصرے نہیں

 


تحریر: نعیم بلوچ 

بلوچ ایک طاقتور قوم ہے بلوچ کی جرت اور بہادری کی دنیا میں مثالیں ہیں بلوچ غیرت کے لیےجان دیتا ہے اور جان لیتا بھی ہے بلوچ کا ماضی شاندار رہا مگر بلوچ کو حقیقی لیڈر بہت کم ملا گزشتہ نصف صدی میں بلوچوں کو صرف تین حقیقی لیڈر ملے ہیں پہلا عوامی لیڈر بابا بلوچستان غوث بزنجو کے شکل میں ملا جس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا بلوچستان کی سیاست میں غوث بخش بزنجو بیسویں صدی کے سیاسی نرسری کے طور پر جانے جاتے ہیں وہ عام عوام میں سے تھا اس نے سیاست کو عام بلوچ تک پہنچانے کے لیے اونٹوں پر سفر کیا اپنے ہم عصروں کے آنکھوں میں وہ ہر ہمیشہ کھٹکتا رہا وہ ایک ترقی پسند نظریات سے لیس قومی خدمت کے جذبے  سے سرشار عظیم انقلابی رہنماء تھے ان کا مشن بلوچ قوم اور دھرتی کے ساتھ پورے خطے کا ترقی تھا وہ ہر ہمیشہ عوام کو ساتھ لے کر چلتے تھے اس کے پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے سیاست میں وہ خود  ایک یونیورسٹی تھا آج تک سیاسی طالب علم ان کے جدوجہد سے سیکھ کر اپنے آگے کا سفر طے کرتے ہیں میر کاروان بابا استمان گل بابا بلوچستان کا خطاب پانے والے غوث بخش بزنجو کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ علاقہ نال سے تھا اس نے غربت بھوک اور پسماندگی کو بہت قریب سے دیکھا اس لیے اس کے دل میں اس دھرتی اور قوم کے لیے ایک درد تھا آج اگر کوئی بلوچستان میں نظریاتی سیاست کا امین سمجھتا ہے وہ میر غوث بخش بزنجو کا مرہون منت ہے بلوچ قوم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچ ایک مردہ پرست قوم ہے زندگی میں وہ اپنے ہیروز کی قدر نہیں کرتا جب ہیروز اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پھر ہم رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں بابا بلوچستان کے ہم عصر بلوچ سیاستدانوں میں نواب اکبر خان بگٹی سردار عطاءاللہ مینگل نواب خیر بخش مری اور دیگر رفیق وہ عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر سکے جتنا مقام نال سے تعلق رکھنے والے اس غریب نے نواب اور سرداروں کے مقابلے میں حاصل کیا اپنے سیاسی بردباری کی وجہ سے قوم کو جنگوں اور خونریزی سے بچا کر رکھا سچ یہ ہے غوث بخش کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ بھی بہت زیادہ ہوا اور کہتے ہیں غوثی کے بدعائیوں پر لوگ آج تک کوئی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں آخر وقت جاتے ہوئے اس عظیم انسان نے وصیت کیا کہ میرے لاش کو میرے عوام کے پسینوں کی خوشبو سے دور نہیں رکھنا شروع سے لے کر آخر تک وہ اپنے عوام کے خیر خواہ رہے اس کے جانے کے بعد بہت سے لوگ سیاست میں آئے اور چلے گئے مگر جو عزت مقام قدرومنزلت میر غوث بخش بزنجو کو ملا آج تک وہ کسی بلوچ لیڈر کو نہیں ملا بدبخت کینسر نے بلوچوں کے غوث کو ان سے چھینا ہر انسان کا کردار آج اس کا پہچان ہوتا ہے میر غوث بخش بزنجو بیسویں صدی کا قومی ہیرو ہے اکیسویں صدی میں بہت لیڈر ہیں اور وساہل سے بھی مالامال ہیں بلوچ قوم اور بلوچ سر زمین کے نام پر سیاست کر رہے ہیں ڈاکٹر مالک بلوچ سردار اختر مینگل بھی حیربیار مری بھی قوم پرستی کے دعوہدار ہیں خاص کر ڈاکٹر مالک خود کو فکر بزنجو کا وارث سمجھتا ہے مگر ابھی تک یہ جذباتی نعروں اور تقریروں سے نہیں نکلے ہیں کرسی حاصل کرنے کے لیے بزنجو کے وارث کس کس گیٹ پر دستک دیتے ہیں یہ وقت کی ستم ظریفیاں ہیں سردار اختر مینگل صاحب بہترین تقریر اسمبلی کے اندر اور باہر کرتے ہیں مگر وہ گمنام منزل کے راہی ہیں اس کوخود پتہ نہیں کہ وہ جا کہاں رہے ہیں اور قوم کو کہاں لے کر جانا ہے وہ یہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پا رہا ہے خیر آج کے بلوچ لیڈروں میں سب سے بڑا نام سردار آصف علی زرداری کا ہے اس بہادر انسان نے وقت کی سختیاں خندہ پیشانی سے قبول کیے جیل کی صعوبتیں اپنوں سے دوریاں گمراہ کن الزمات اور بدنامیاں برداشت کیے مگر وفا کا پیکر بن کر چٹان کی طرح ڈٹا رہا دنیاجہاں کی ظلم وستم برداشت کیے آج وہ اپنے قوت برداشت کی وجہ سے مرد آہن کا لقب پایا ہے زندگی میں وہ انسان ضرور کامیاب ہوتا ہے جو وقت کی سختیاں برداشت کرتا ہے اس انسان کے تین بڑے قصور ہیں پہلا قصور اس انسان کا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا شریک حیات ہونا ہے دوسرا قصور اسکا ڈومساہل کا ہے کیونکہ وہ ایک چھوٹے صوبے سے تعلق رکھتا ہے تیسرا جرم اسکا بلوچ ہونا ہے اگر میں یہاں آصف علی زرداری کے اذیتوں کا داستان لکھنا شروع کروں شاہد موضوع سے ہم ہٹ جائیں جب آصف علی زرداری کو مسند اقتدار ملا تو اس نے سب سے پہلے بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بھر پور کوشش کیا چند قوتوں کو بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنا پسند نہیں آیا بلوچستان میں گورنمنٹ کا رٹ مکمل طور پر ختم کیا گیا ریاست کے اندر ایک الگ ریاست قائم ہو گیا حکومت کارٹ زرغون روڈ پر عبدالستار عیدی چوک سے جی پی او چوک تک رہا آئین اور قانون کو پابند سلاسل کیا لوگ گھروں سے غائب ہونے لگے چند دنوں  کے بعد ان کی لاشیں ویرانوں سے ملنے لگے خوف اور دہشت کو پھیلایا گیا قانون کے نام پر لاقانونیت کو عروج پر پہنچایا گیا لوگوں کو مجبور کرکے پہاڑوں کاراستہ دکھایا گیا دوسرے جانب ضدی بلوچ اپنے ضد پر کھڑا رہا اس نے بلوچستان کو ترقی کے پٹڑی پر لے کر آنا کا عزم کر رکھا تھاصدارت کے دوران ان کو دھمکیاں ملتے رہے انھیں روکنے کے لیے بلوچستان میں آگ اور خون کا ہولی کھیلا گیا بلوچستان میں ترقی اور شعور کو روکنے کے لیے ہر قسم کے ہتکھنڈے استعمال کیے گئے مگر آصف علی زرداری نے نہایت سنجیدگی سے دیرپا پالیسیاں مرتب کرنا شروع کیا  بلوچستان کو 18ویں ترمیم کے ذریعے وہ تمام آئینی اختیارات دیئے جو بلوچستان کا حق بنتا تھا اور بلوچستان کے پسماندگی کو دور کرنے کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں سو فیصد اضافہ کیا اور سی پیک کا بنیاد رکھ کر گوادر کو سنگاپور سے واپس لے کر چین کے حوالے کر دیا ایران سے گیس پائپ لائن کا معاہدہ کر کے پائپ لائن کا سنگ بنیاد رکھا بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انڈسٹریل زونز قائم کرنے کا وعدہ کیا تاکہ بلوچستان سے پسماندگی کا خاتمہ ہمیشہ کے لیے کر دیا جائے آصف علی زرداری نے بلوچستان کو ترقی کے راہ پر گامزن کرنے کے لیے آخری حد تک جانے کا عزم کیا مگر آصف علی زرداری کو عدالتوں کے پیشیوں اور نان ایشوز میں الجھانے کی کوششیں بھی ہوتے رہے وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے عدالتوں کا طواف کرتا رہا آصف علی زرداری پاکستان کے سیاسی انتقام کا شروع دن سے نشانہ رہا ہے اس کو بدنام کرنے کے لیے ان کا میڈیا ٹرائل کیا گیا اسے جھکانے کے لیے ہر قسم کے حربے استعمال کیے ان کازبان تک کاٹا گیا مگر سلام ہے اس بلوچ فرزند کو اتنے ستم برداشت کرنے کیبعد بھی اس کے پاوں نہیں ڈگمگائے یہاں تک اس کے زبان کو کاٹا گیا مگر اس نے اف تک نہیں کیا آج تک آصف علی زرداری تمام میڈیا پروپگنڈوں کا جوان مردی سے مقابلہ کر رہے ہیں اور عدالتوں میں قانونی جنگ لڑ کر مقدمات سے باعزت بری ہو کر ثابت کر رہا ہے تم سیاسی انتقام لو میں سینہ تان کر کھڑا رہونگا آج مجبورا ان کے سیاسی مخالفین خود اس کے بے گناہی کی شہادت دے رہے ہیں اس سے بڑا سچ اور کیا ہوسکتا ہے بلوچستان کو ساحل اور وساہل پر حق دینے والا لیڈر آصف علی زرداری ہے اس نے سب کو معاف کر دیا مگر آج تک اس نے بلوچ قوم کے علاوہ کسی سے معافی نہیں مانگا آصف زرداری نے جو بلوچستان کے لیے کیا ہے آج تک پاکستان کے کسی حکمران نے نہیں کیا پہلے جو اس کے تین قصور اور جرم تھے اب ان میں اضافہ ہوا ہے سی پیک کی بنیاد اٹھارویں ترمیم آغاز حقوق بلوچستان این ایف سی ایوارڈ آصف علی زرداری کے جرائم میں شامل ہو گئے ہیں جو کچھ اس سے ہوا اس نے کیا مگر اس کے بدلے میں اس نے کھبی قومیت کا نعرہ نہیں لگایا اس نے کہا ہمیں تمام مظلوموں کا خدمت کرنا ہے سارے علاقوں کوترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اگر آج مجھے خدمت کرنے کا موقع ملا ہے تو ہم اپنے بساط کے مطابق  اپنے حصہ کا کام کریں گے اگر مزید موقع ملا تو اپنے حصے کا کام کرتے جائیں گے مرد آہن نے کھبی قومیت کو سیاست میں نہیں لایا قوم اور مذہب کے نام پر کسی سے دھوکہ نہیں کیا یہاں تو قومیت اور مذہب کے پر روز کھلواڑ ہوتا رہا غریب بلوچ کے نام پر کمیشن اور کرپشن کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا بلوچستان میں سیاست نہیں سیاہ ست ہو رہی ہے آصف علی زرداری آج زندہ ہے تو ہم میر غوث بخش بزنجو کی طرح ان کی قدر نہیں کر رہے مجھے پتہ ہے وہ مرنے کے بعد بلوچوں کا ہیرو ہو گا آصف علی زرداری کے باپ دادا گزشتہ پشتوں سے اپنے  قبیلے کا سردار رہے ہیں بالادست طبقے سے اس کا تعلق ہے مگر جب اقتدار ان کو ملا تو اس نے مظلوم قومیتوں کو برابر لانے کی بھر پور کوشش کیا وہ ملک میں بسنے والے تمام قومیتوں کے ہیرو ہے اس نے پشتون سندھی اور بلوچوں کی خدمت کیا ان کو شناخت اور ان کا آئینی حق دیا اور اپنے بدترین مخالفیں سے ہاتھ ملا کر پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالا آج گوادر سے شروع ہونے والا تحریک بلوچستان کو حق دو آصف علی زرداری کے طرف سے دئیے گئے حقوق کا مطالبہ ہے مولانا ہدایات الرحمن نہایت جرت اور بہادری سے اپنا آئینی حق مانگ رہا ہے ان کے تمام مطالبات برحق اور آئین کے دائرے میں ہیں بلوچستان ایک دہشت زدہ صوبہ رہا ہے سچ بولنا جرم عظیم برابری مانگنا گناہ عظیم اور حق مانگنا خطاء عظیم رہا ہے گو کہ مولانا کا تعلق ریاستی بغل بچہ پارٹی سے ہے اس کے پارٹی کی وجہ سے شروع میں اس پر بہت کم لوگوں نے اعتماد کیا مگر مولانا ہدایت الراحمن نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کیا کہ حق دو تحریک سے جے آئی کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ مذہبی تحریک ہے یہ یہاں کے لوگوں کی طبقاتی جنگ ہے جن کو سیاسی پارٹیاں کھبی ایڈریس نہیں کرتے ہر پارٹی ان مساہل پر لفاظی جمع خرچ تک محدود ہے یہاں محرومیوں کو حل کرنے کے بجائے ان محرومیوں کو کرید کر سیاست چمکاتے ہیں عوامی مساہل سے لوکل پارٹیوں کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں مولانا نے ہمت کرکے جرت اور بہادری کا مظاہرہ کیا عوام کو ساتھ لے کر چلے سمندر کے ساتھ عوامی سمندر لایا حکومت اور ریاست کو مجبور کیا کہ وہ عوام کے مساہل سن کر ان کو حل کریں مولانا کا تحریک اب شروع ہوا ہے یہ بہت لمبا سفر ہے اس سفر میں بلوچستان کے عوام مولانا کا بھر پور ساتھ دینگے کیونکہ یہ تحریک آئین پاکستان کی بازیابی کے لیے ہے یہ تحریک غریب کی دو وقت کے روٹی کے لیے ہے اور سب سے بڑھ کر یہ تحریک عزت سے جینے کے لیے ہے یہ تحریک اب ایک طبقاتی جنگ کی طرف گامزن ہے یہ شروع بلوچستان سے ہوا ہے یہ پورملک میں پھیلے گا تمام قومیتیں اس تحریک کا حصہ بنیں گے پنجاب خیبر اور مہران کے مظلوم محکوم بھی نکلیں گے یہ تحریک انقلاب کی طرف بڑھے گا جب مولانا نے آواز لگانا شروع کیا تو میں بھی اس وقت مولانا کے ناقدین میں شامل تھا مولانہ نے اپنے عملی سیاست میں ہمیں غلط ثابت کیا یہ مولانا کون ہے نہ یہ کوئی سردار ہے نہ جاگیردار ہے  اور نہ ہی زردار ہے وہ جرت مند ہے خود مظلوم ہے محنت کش طبقہ سے اس کا تعلق ہے وہ ایماندار ہے عوام کا ان پر اعتماد ہے وہ خود کہتا ہے پیشے کے لحاظ سے میں ایک مچھیرا ہوں آج بڑے بڑے سردار نواب سرمایہ دار اس مچھیرے کے مقبولیت سے گھبرائے ہوئے ہیں آج مولانا ہدایت الرحمن غوث بخش بزنجو کی طرح غریب اور مظلوم عوام کو منظم کر رہا ہے اس میں صبر جرت اور بہادری آصف علی زرداری کا نظر آتا ہے بزنجو زرداری اور مولانا بلوچوں کے تین ہیرو ہیں بزنجو صاحب آج اس دنیا میں نہیں آصف زرداری بلوچ ہونے کاسزا بہادری سے کاٹ رہا ہے اور مولانا آج بہادری سے میدان میں عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے آصف علی زرداری واحد بلوچ لیڈر ہیں اس نے مولانا ہدایت الرحمن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا باقی بلوچ لیڈر سیاست بچانے کی چکر میں مولانا کے مخالفت کرتے رہے کچھ کھل کر مولانا کے خلاف بولنے لگے اور کچھ عوامی تیور دیکھ کر خوف کے مارے ایک کونے میں اپنے پارٹی ورکرز کو مولانا کے تحریک کو ناکام کرنے کی سازشیں رچاتی رہے مگر کہتے ہیں محنت اور جدوجہد سے قوموں کی زندگی بدلتی ہے بلوچ قوم اپنے تقدیر کو اپنےہاتھوں میں لے کر میدان میں آئے ہیں اس کا فیصلہ وقت کریگا اور حق دو  تحریک آنے والے دنوں میں شدت سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گا محسوس ایسا ہوتا ہے حق دو بلوچستان کو  حق دو پاکستان کو میں بدل رہا ہے

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں