کوئٹہ۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ٹھپہ مافیا کے دو وزرا کے نام سے نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے متعلق جو ہرزہ سرائی کی گئی اس سے ان کی بوکھلاہٹ واضع ہورہی ہے ان بیچاروں کو یہ علم ہی نہیں کہ ان کےنام سے کون بیان جاری کررہا ہے البتہ ان کے بیان سے فریق اول کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی ترجمان نے کہاکہ دو ایسے قابل رحم وزرا کے نام سے بیان جاری کیا گیا جو عملا مقید ہیں اور ان کی حالت قابل رحم ہے۔ سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا سیاسی کردار بلوچستان کے عوام کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں زمانہ طالب علمی سے آج تک بلوچستان کے عوام کے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کی 2002 اور 2018 کے انتخابات میں واضع برتری اور حکومت دینے کی پیش کش کو نیشنل پارٹی نے مسترد کردیا نیشنل پارٹی کو اگر سمجھوتہ کرنا ہوتا ان بیچاروں کو کوئی گھاس ہی نہیں ڈالتا۔ سی پیک کی بات کرنے والوں کو تاریکی حقیقت کا نہ علم ہے اور نہ نیشنل پارٹی کی سیاسی قیادت کی جرات و استقامت کا۔ حکومتی اراکین اور حکومت بلوچستان کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے بہتر ہے وہ سب کچھ سامنے لائے سابق وزیراعلی کا کسی معاہدے پر بھی دستخط موجود نہیں۔ البتہ ہم اصل فریق اور ضامن دونوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضع سیاسی اور قومی موقف اپنایا کہ ریکوڈک بلوچستان کے عوام کی قومی ملکیت ہے ایسے بند کمرے میں زیر بحث لانے کے بجائے سب کچھ عوام اور میڈیا کے سامنے لایا جائے۔ نیشنل پارٹی بلوچستان کے قومی مفادات کی پاسبان ہے اور بلوچستان کے ساحل وسائل پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا بلوچستان کے قومی سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں