بی این پی عوامی میں گرینڈ شمولیتی پروگرام

کوئی تبصرے نہیں


تربت: تحصیل تمپ کے علاقہ زینب منیددی کلاہو میں سرکاری پارٹی باپ کی مکمل صفایا
بی این پی عوامی کے مرکزی سنیئر نائب صدر و سابق صوبائی وزیر میر اصغر رند کی قیادت پر اتفاق کرتے ہوئے سرکاری پارٹی باپ کی سنیئر رہنما و علاقائی متعبر میر اکبر بلوچ کی سربراہی میں سیکنڈوں کارکنان نے اپنی پارٹی باپ سے استعفیٰ دے کر بی این پی عوامی کی پالیسی پر اتفاق کرتے ہوئے میر اصغر رند کے قیادت میں پارٹی کاروان کا حصہ بن گئے۔
میر اکبر بلوچ نے اپنے سیکنڈوں ساتھیوں سمیت باپ پارٹی سے استعفی دیتے ہوئے کہا کہ باپ ایک پارٹی نہیں بلکہ ٹپہ مار لوگوں کی اپنی ذاتی مفادات کے لیے ایک گروپ ہے جیسے عوامی مسائل پر کوئی سروکار نہیں ہے اس لیے آج سرکاری گروپ سے لاتعلقی کا اظہار کرکے اپنے ساتھیوں سمیت بی این پی عوامی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں
شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے میر اصغر رند نے میر اکبر بلوچ و دیگر علاقائی معزز و معتبرین کو پارٹی میں شامل ہونے پر دلی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میر اکبر بلوچ و دیگر سیکنڈوں باپ کے کارکنان کی اپنی پارٹی سے بیک وقت مستعفی ہونا یقیناً باپ پارٹی کی نہ صرف صفایا بلکہ انکی زوال ہے کہا گیا کہ أپ معززین کی شمولیت ہمارے لئیے باعث حوصلہ اور علاقے کے لئیے نیک شگون ہے امید رکھتے ہیں کہ آپ لوگ بی این پی عوامی کے جھنڈے تلے اپنی قومی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے علاقائی مسائل کی حل کے لیے نمائندگی کرینگے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی این پی عوامی بلوچ مظلوم و محکوم اور یہاں کے مڈل کلاس و مزدور کی آواز جماعت ہے جس کی قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہم بحثیت عوامی نمائندے بڑے دعوے نہیں کرتے لیکن ہماری دس سال کی کارکردگی پر غیر جانبدار نظر دہرائیں تو حقائق سامنے ہونگے کہ موجودہ مسلط کردہ نمائندوں نے ہمارے کاموں کی صرف 10 دس فیصد حصّہ بھی نہیں کیا ہے پورے حلقے کو پسماندہ رکھا گیا ہے نہ یہاں انفراسٹرکچر نہ تعلیم و شعبہ صحت میں بہتری نظر أتی ہے اور نہ دیگر ترقیاتی منصوبوں نظر آتے ہیں البتہ دو چار واٹر سپلائی اسکیم نظر أئیں گے وہ بھی غیر فحال ہیں اور اپنے جی حضور دن کے کامریڈ اور رات کے کم ریٹ والوں کو دے چکے ہیں۔ مذید کہا کہ گزشتہ جنرل الیکشن میں عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کر کے اپنے من پسند لوگوں کے لیے تاریخی دھاندلی کی گئی ہے جس کی سزائیں آج وہ قوتیں بھگت رہے ہیں الیکشن میں دھاندلی اور نتائج کو تبدیل کی وجہ سے عوام اور سرکار کے درمیان خلیج پیدا ہو گئی ہے اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہے مزید کہا گیا کہ سلیکٹڈ نمائندوں کی حکومت نے کیچ میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی نان ٹیچنگ اور لیویز کے کچھ بھرتیاں ضرور کیئے ہیں لیکن وہ بھی سرعام فروخت ہوئے ہیں جسکی کیس عدالتوں میں گئے ہیں دوسری طرف ہمارے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل و صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے سوشل ویلفیئر کیچ میں 60 نوکریاں میرٹ پر دی ہیں اور کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ پوسٹیں فروخت ہوئے ہیں بلکہ ھم سیاست کو عوام کی خدمت اور عوامی مسائل کی حل کو اپنی زمہ داری سمجھتے ہیں اور مزید کہا کہ جس بندے کو یہاں کی نمائندگی دی گئی ہے وہ یہاں خود ووٹ کاسٹ ہی نہیں کر سکتا

شمولیتی پروگرام سے اراکین سنٹرل کمیٹی خلیل تگرانی، علی جان جوسکی، سابق ضلعی صدر و ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن ظریف زدگ بلوچ، سابق ضلعی نائب صدر عزیز دیدار، سابق تحصیل تمپ کے صدر حاجی محمد رحیم ودیگر نے خطاب کیا اس موقع پر پارٹی کیچ کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری احد الٰہی، سابق ضلعی ڈپٹی سیکریٹری شے مرید بلوچ، سابق ضلعی اسپورٹس سیکریٹری بابل ابراہیم، سابق یوتھ سیکریٹری آصف محمد جان، پارٹی کے سنئیر رہنما عارف قریش،لطیف آزاد، فدا مرید زئی، یونس متعبر، رحیم جان، اعظم بلوچ، منصور، جمعہ خان، حمزہ، جمعدار دلجان، شعیب آزاد، حفیظ بلوچ، سلمان خان و دیگر موجود تھے بعداز میر اکبر بلوچ نے میر اصغر رند و دیگر پارٹی رہنماؤں کی اعزاز میں پروقار ظہرانہ کا اہتمام کیا۔

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں