جمہوری نظام میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ کہا جاتا ہے اور اگر عوام میں شعور بیدار ہو تو واقعی جمہوریت کی روح عوام ہی ہے لیکن بدقسمتی سے جس ریاست میں ہم آپ زندگی بسر کر رہے ہیں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی ہے عوام کو نام نہاد جمہوریت کے نام پر کئی بار دھوکہ دی گئی ہے اسی وجہ سے عوام اب مایوسی کا شکار ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں جمہوریت کی بالا دستی اور عوام کی رائے کی قدر ہو جانا چاہیے تھا، لیکن مخلص عوامی نمائندے اور عوام کے حقیقی نمائندہ منتخب نہ ہونے کہ وجہ سے بلوچستان کو اور خاص کر بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں کئی دہائیوں سے عوام نے آنکھین بند کرکے کچھ لوگوں پر (مطلب ایک ہی فیملی) پر اندھا اعتماد کا اظہار کرکے پے درپے ان کو کئی موقع فراہم کئے ہیں تاکہ علاقے اور عوام کی تقدیر بدل جائے لیکن افسوس کہ آج سے 30 یا 35 سال قبل علاقہ کی صورتحال کیا تھی وہی کا وہی ہے سوائے ایک دو انٹر کالج کی بلڈنگ اور کچھ سکولوں میں ایک دو نئی کلاسز کے اضافہ کے سوا جس کی ہر وقت مثال دیکر بطور مثال پیش کی جاتی ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے علاقے کو دوسرے علاقوں کے مقابلہ کیوں ترقی یافتہ نہیں کہہ کر حق بات نہیں کرتے ہو ایک روڈ کو اپنا ذریعہ معاش بناکر تقریباََ کل ملاکر 40 یا 45 کلومیٹر بنتا ہے اس روڈ کا کام شروع ہوتے 25 یا 30 سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا دعوے تو بڑے بڑے کئے جاتے ہیں ایسا کہا جارہا ہے جیسے حلقہ پی بی 45 بلیدہ زامران ہوشاپ پیدارک کولواہ سمیت یورپ کے مناظر پیش کر رہے ہیں لیکن زمین میں انکا کوئی آثار نظر نہیں آتا اگر پانچ منٹ کیلئے مان لیا جائے کہ ایک انٹر کالج بلیدہ میں ایک ہوشاپ میں تعمیر ہوئے ہیں اب اپ گریڈ ہوکر ڈگری کالج کا درجہ رکھتے ہیں، 30 سالوں سے زیر تعمیر مسکین روڈ پر کام جاری ہے امید ہیکہ انقریب مکمل ہوجائے گا ہم مان لیتے ہیں کہ یہ چند پروجیکٹ ہمارے صاحبِ اقتداروں کے 30 سالوں کے تحفے ہیں مکمل یا نامکمل لیکن کیا ان 30 سالوں کی نمائندگی کا حق یہی چنداں پروجیکٹوں کو مکمل ہونے پر ادا ہوتی ہے۔؟
ان کے علاوہ اگر حلقے کے سڑکوں کی بات کی جائے آج سے 30 سال قبل جو کچے روڈ تھے انکی حالت قدرے بہتر تھی کیونکہ محکمہ بی اینڈ آر کی طرف سے ان روڈوں پر کبھی کبھار گریڈر لگتی تھی اور روڈوں پر محکمہ بی اینڈ آر کے روڈ گینگ کام کرتے تھے آج ان روڈوں کی حالت ایسی ہی کے سفر کے قابل نہیں لوگ مبجوراََ سفر کرکے چند کلو میٹر کے سفر کئی گھنٹوں تک کا ہوتا ہے تربت سٹی سے ہوشاپ کے علاقوں پر پھر بھی سی پیک کے نام کی وجہ سے ایک ہائی وے گزرتی ہے ان کے علاوہ صحت ، زراعت مواصلات ، بجلی، تعلیم ان شعبہ جات میں کوئی بھی ایک مکمل بنیادی عوامی سہولیات عوام کو میسر نہیں ہیں۔
میں تو حلقہ پی بی 45 کیچ 1 کے عوام کی صبر کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آج تک عوام نے ایک بھی موثر اقدام تک نہیں اٹھائی
ایسی شریف النفس عوام کو اتنی پسماندگی میں رکھنا میرے نظر میں بہت بڑی ظلم ہے لیکن یہ عوام داد کے مستحق ہیں جو اپنی پسماندگی پر کتنے خوش ہیں اور کچھ نمائندے کے جھوٹے وعدوں پر بھی راگ الاپ گاتے ہیں۔
عوام کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اب مزید دھوکہ میں نہ رکھے اور عوام کو اب اپنی پہچان ہونا چاہیے کہ انکی کیا قوت و طاقت ہے یہ عوام ہی کی بدولت ہیکہ اپنے سے کسی کو چن کر اپنے حق و حقوق کے حصول کیلئے ایوان اقتدار تک پہنچاتا ہے تاکہ انکی نمائندگی کریں اور حکومت وقت سے ان کے جائز معاشی معاشرتی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے دستیاب وسائل سے عوام مسائل حل کریں اس کے باوجود ہمارے نمائندے عوامی مسائل سے مبرا اپنے بینک بیلنس کے چکر میں میں ہیں عوام روز بروز مشکلات اور مسائل کے شکار غریب ہوتے جا رہے ہیں اور نمائندہ امیر سے امیر ہوتے جا رہے ہیں۔
اب بھی اگر عوام میں شعور پیدا نہیں ہوگی تو اس عوام کو آنے والی نسل کبھی بھی معاف نہیں کریگی اگر واقعی عوام ترقی چاہتی ہے تو عوام کو اب بیدار ہونا پڑے گا اور اپنے حقوق کے حصول کیلئے بہ یک جنبش اپنی قدم اور قلم اٹھانے کی ضرورت ہے خاص کر نوجوانوں کو چاہیے وہ انقلاب نما کردار ادا کریں کیونکہ نوجوان ہی قوم کی تقدیر بدل دینے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو نوجوان قیادت کی قربانیوں نے کئی ممالک کے جابر حکمرانوں کی تختہ الٹ دی ہیں نوجوانوں کو اب مایوسی سے نکل کر عملی میدان میں عملی طور پر کام کرنا ہوگا ورنہ ماضی کی طرح مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گی اور پسماندگی کے شکنجوں سے کبھی نہیں نکل سکتے ہیں۔
وائس آف بلیدہ زمران
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں