کوئٹہ: سینئر سیاستدان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے میڈیکل کالجز کے احتجاجی کیمپ میں صحافیوں سے اظہار خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے میڈیکل کالجز کے طلباء کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو تحریک کو صوبے کے تمام تعلیمی اداروں تک پھیلادیا جائیگا۔
ان کامزید کہنا تھا کہ مکران ، جھالاوان ، لورالائی میڈیکل کالجز کے متاثرہ طلبا کے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں اظہار یکجہتی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ،
اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد و دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ مکران ، جھالاوان ، لورالائی میڈیکل کالجز کے طلباءگزشتہ 18 روز سے سراپا احتجاج ہیں مگر صوبائی حکومت نے اب تک طلباءسے باضابطہ مذاکرات کا آغاز تک نہیں کیا ، حکومت کے رویہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ صوبائی حکومت خود مسائل کو پیچیدہ بناکر لوگوں کو احتجاج پر اکسارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجز کے طلباءکے طلباءکو چار سال بعد دوبارہ انٹری ٹیسٹ دینے کیلئے کہا جارہا ہے حالانکہ ان طلباءنے پہلے ہی انٹری ٹیسٹ پاس کرکے چار سال تک تعلیم حاصل کی ہے طلباءکے چار سال ضائع کرنا پوری قوم کے چار سال ضائع کرنے کے مترادف عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اگر کوئی بھی بے قاعدگی ہوئی ہے تو اس کی سزا طلباءان کے والدین اور بلوچستان کے لوگوں کو نہ دی جائے بلکہ یہ سزا انہیں دی جائے جنہوں نے یہ پالیسی بنائی۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ میڈیکل کالجز کے متاثرہ طلباءکو تعلیم جاری رکھنے دیںاور مزید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہ بچے اپنی تعلیم مکمل کرکے سماج کی خدمت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجز کے طلباءکے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو تحریک کو صوبے کے تمام تعلیمی اداروں تک لے جایا جائے گا۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں