تربت . بی این پی عوامی کے مرکزی سنیئرنائب صدر سابق صوبائی وزیرمیر اصغررند نے کہاہے کہ سلیکٹڈ ونااہل حکمرانوں نے ملکی معیشت کوتباہ کرکے رکھ دیاہے، جنوبی بلوچستان پیکیج کے اربوں روپے کراچی پیکیج کے1100ارب روپے کی طرح ثابت ہوں گے جن کاتاحال کچھ اتہ پتہ نہیں، بلوچستان میں مینگل اورجمعیت بظاہرتواپوزیشن میں ہیں مگر حقیقت میں اپوزیشن حکومت کا ہراول دستہ ہے اس لئے قدوس بزنجو کیلئے کم مدت میں 65ارکان اسمبلی کوخوش رکھنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے، ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روزتربت پریس کلب کے پروگرام گند ونند سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر بی این پی عوامی کے مرکزی کمیٹی کے رکن میر علی جان جوسکی،ظریف زدگ، احدالہٰی، عارف قریش، فدامرید زئی، زاہدسلیمان ودیگر ان کے ہمراہ تھے، میر اصغررند نے کہاکہ 2018ء کے عام انتخابات میں الیکشن کے نام پر سلیکشن سے بلوچستان کے حالات پھر منفی رخ اختیارکرچکے ہیں، خودساختہ پارٹی کا حشر سب کے سامنے ہے، باپ کے بیٹے خود آپس میں الجھ پڑے انہوں نے اپنے صدر اور وزیراعلیٰ کوبھی فارغ کردیا، قدوس بزنجو کی خوش قسمتی ہے کہ اسمبلی کے 65کے65ارکان بالواسطہ حکومت کاحصہ ہیں گوکہ بظاہر بی این پی مینگل اورجے یو آئی اپوزیشن میں ہیں مگر وہ حکومت کاہراول دستہ ہیں، مگر دوسری طرف قدوس بزنجو کیلئے ایک سال مدت میں 65ارکان کو خوش رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے، انہوں نے کہاکہ موجودہ مسلط کردہ حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیاہے بنگالی ٹکہ بھی پاکستانی روپیہ سے دوگنا ہے جبکہ ڈالر200روپے کے قریب پہنچ چکا، انتہائی سخت اورکڑی شرائط پر بیرونی قرضے لئے جارہے ہیں، روزگار کی فراہمی اپنی جگہ لوگوں کوبے روزگارکیاجارہاہے، مہنگائی اپنی بلندیوں کو چھورہی ہے، ڈیولپمنٹ سیکٹر کو تالے لگے ہیں، بلوچستان میں بھی ترقیاتی سرگرمیوں اور روزگار کی یہی صورتحال ہے یہاں پر محکمہ تعلیم میں نان ٹیچنگ اسٹاف اور لیویز فورس کی کچھ بھرتیاں توہوئیں مگر ان کی بھی بولی لگی تھی جن کے ثبوت ہمارے پاس ہیں، بلوچستان میں بی این پی عوامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سابق صوبائی میر اسداللہ بلوچ کی خصوصی دلچسپی کی بدولت انڈوومنٹ فنڈزکے نام سے ایک منصوبہ شروع ہواہے جس سے غریب ونادارمریضوں کو فائدہ پہنچ رہاہے اور سوشل ویلفیئر میں نوجوانوں کوملازمتیں دی گئیں، انہوں نے کہاکہ جنوبی بلوچستان کیلئے جس پیکیج کااعلان کیاگیا اس کی صورتحال کراچی پیکیج کے1100ارب روپے کے فنڈزسے مختلف نہیں ہوگی، یہ محض خوشنما اعلانات ہیں،شایدیہاں سیکورٹی کے حوالے چند ایک اقدامات توہوں مگر عوام کی فلاح وبہبود کاکوئی امکان نہیں، موجودہ دورمیں ترقیاتی کام کہیں نظرنہیں آتے، مند، تمپ نگور، بلیدہ کولواہ جہاں بھی جائیں کوئی ترقیاتی کام ہوتا نظرنہیں آتااگرکہیں پرکوئی چھوٹا موٹا منصوبہ شروع کیاگیاہے تو رفتار بے ڈھنگی کے سبب بے کارنظرآئے گی، انہوں نے کہاکہ 2018ء کے الیکشن میں جو پریکٹس کیاگیا اس سے آج عوام میں مایوسی پھیل گئی ہے کیونکہ سلیکٹڈ نمائندوں کو عوام اپنا نمائندہ نہیں سمجھتے یہی وجہ ہے کہ مولانا ہدایت الرحمن کی حق دو تحریک کوبھرپور عوامی پزیرائی مل رہی ہے جو حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے لمحہ فکریہ ہے، صاف وشفاف الیکشن وقت کی ضرورت ہے،2013ء سے الیکشن چوری کا خطرناک طریقہ آزمایا جارہاہے عوام سے رائے دہی کا حق چھینا گیاہے اگر2023ء میں بھی اسی طرح کے تجربہ کیئے گئے تو پارلیمانی سیاسی جماعتوں کیلئے سیاسی وجمہوری جدوجہد کے راستے مسدود ہوں گے عوام مایوس ہوں گے پھر جو تباہی اورنقصان ہوگا اس کا نقصان عوام اورپاکستان کو پہنچ سکتاہے، انہوں نے کہاکہ سمندری ٹرالنگ کی روک تھام کیلئے1ارب13کروڑروپے کے فنڈز خورد برد ہوئے ہیں جس پر فشریز کے سیکرٹری ودیگر حکام نیب کے قید میں ہیں،مکران کے عوام کیلئے سمندر اوربارڈر روزگارکے اہم ذرائع ہیں جنہیں بدقسمتی سے چھین لیاگیاہے، انہوں نے کہاکہ مقامی سطح پر نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، جے یو آئی اوربی این پی عوامی کے درمیان کم سے کم نکات پر اشتراک کارکیلئے کوششیں جاری ہیں تاکہ متوقع بلدیاتی وعام انتخابات میں غیرسیاسی قوتوں کا راستہ روکا جاسکے انہوں نے اس الزام کومستردکردیاکہ ان کے دورمیں گومازی پل، بل نگورکالج، مند کالج یادیگر اسکیموں کے فنڈز خوردبرد ہوئے ہیں بلکہ اس وقت سیکورٹی وجوہات کی بناء پر کام نہیں ہوسکے تاہم 4انکوائریاں ہوئی ہیں، ٹھیکیدارموجودہیں جنہوں نے نیب سے معاہدہ کیاہے کہ اگر سیکورٹی اورموجودہ ریٹ پر فنڈز کااجراء کیاجائے تووہ اپنا کام کریں گے کیونکہ2010سے اب تک تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہواہے، ان اسکیموں کے مکمل پیسہ نکالنے کی باتوں میں صداقت نہیں ہے۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں