تحریر: ظریف بلوچ
افراتفری کا ماحول تھا، جنگل کی فضا سوگوار جب کہ پرندوں کی چہچاہٹ کی آواز بھی دور سے سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ہر طرف مایوسی کے بادل منڈلا رہے تھے۔ یہی لگ رہا تھا کہ جنگل میں کوئی آگ لگی ہے، یا تیز برسات کی وجہ سے پرندے اپنے گھونسلوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ یا کسی تیز آندھی کے ڈر سے جنگل کے پرندے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں جنگل سے کوسوں دور چلے گئے ہوں۔ کیونکہ یہ ایک ایسا جنگل تھا جہاں جانور تو نہیں رہتے بلکہ پرندوں کی چہچاہٹ اور لہلاتی فصلوں نے اس ویران جنگل کو آباد کیا ہوا تھا، اور نیچرل مناظر اس میں سموئے ہوئے ہیں۔
پرندوں کی چہچاہٹ جو کسی سریلے گیت کی مانند ہوتے ہیں، اب یہاں خاموشی کا سماں تھا۔ کسی پرندے کو قریب آتے دیکھ کر میں نے اس سے یہ پوچھ لیا کہ آج یہاں سنسان سماں کیوں ہے؟ کوئی جواب دیے بغیر پرندہ یہاں سے چلتا بنا۔ قریب جا کر دیکھا تو کچھ پرندے سرگوشیوں میں مشغول نظر آئے۔ جوں ہی پرندوں کی نظر مجھ پر پڑتی تو وہ آسمان کی طرف پرواز بلند کرتے۔
میں اس عجیب ماحول کی عجیب کیفت سے کافی پریشان تھا کہ وہی پرندے جو مجھے اپنا مسیحا سمجھتے تھے، جو روز مجھ سے باتیں کرتے ہوئے ہنستے تھے، جن کی محبت مجھے روز اس جنگل کی طرف کھینچ کر لاتی تھی۔ اب یہ مجھ سے اتنا نالاں کیوں ہیں؟
میں جب جنگل کے وسط تک پہنچ گیا تو دیکھا کہ وہ پرندے جن کی چہچاہٹ سے یہ ویران جنگل آباد ہوا کرتا تھا، وہ کسی پنجرے میں قید ہیں۔ وہی بلبل جس کی آواز کسی سریلی گیت کی طرح تھا، وہی فاختہ جو کوکو کوکو کرتے ہوئے اس جنگل کی رونق کو جلوہ گر کر رہا تھا۔ کبوتر جو کسی اور جنگل سے چھٹیاں منانے یہاں آتا تھا اور ان پرندوں کو قید دیکھ کر اب مجھے سمجھ آ گیا کہ یہ سرسبز و شاداب جنگل کیوں ویران نظر آ رہا ہے۔ جب میں جنگل کے وسط سے نکل کر آگے کی طرف جاتا رہا تو کافی پرندے نظر آرہے تھے جو ناچ رہے تھے، گا رہے تھے۔ مگر کسی چہچاہٹ کے بغیر۔
جنگل کے اس کونے میں رونق ضرور تھی مگر یہ ایک خاموش رونق تھا۔ یہ مناظر دیکھ کر میں گہری سوچ میں کھو گیا۔ تو میرے دماغ میں گردش کرتے ہوئے خیالات بولنے لگے کہ جنگل میں رائج قانون میں شاید ایک نئی تبدیلی آ چکی ہے کیونکہ اس جنگل میں بولتے ہوئے پرندوں کو قید کر کے گونگے اور بہرے پرندوں کو آزاد کر دیا ہے۔
میں تیز قدموں کے ساتھ اس جنگل سے نکل گیا کہ گونگے اور بہرے پرندوں سے میری دوستی ہو نہیں سکتی کیونکہ مجھے پرندوں کی چہچاہٹ پسند ہے۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں