ہوشاپ لیویز چیک پوسٹ پر دو سو روپے بھتہ نہ دینا غریب گاڑی والے کو مہنگا پڑ گیا
تربت سے ڈیزل لانے والے غریب گاڑی مالکان روزانہ بلوچستان کے مختلف اضلاع کے چیک پوسٹوں پر ڈنڈے کھاتے ہیں
قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کے بے سہارا بے روزگار غریب باسیوں کو اب روزگار کرنا بھی مہنگا پڑنے لگ گیا ہے، ایک طرف بے روزگاری نے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا تو دوسری طرف لوکل انتظامیہ کے آفیسران بالا کے لئے شاہ خرچیاں جمع کرنے والے لیویز اہلکار جو روزانہ کی بنیاد پر ڈیزل لے جانے والے چھوٹے گاڑی مالکان کو ہر چیک پوسٹ پر اتار کے ناجائز گالی گلوچ کرکے ان کو پیٹا جاتا ہے حالانکہ گذشتہ دنوں صوبائی وزیر داخلہ نے اسمبلی اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جلد ایک میٹینگ کرکے چیک پوسٹوں کو کم کریں گے اور گاڑی والوں کو ناجائز تنگ بھی نہیں کیا جائے گا۔اب محض اسمبلی کے فلور تک ارکان کو طفل تسلی تک محدود رہ گیا،ڈپٹی کمشنر تربت سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ان اہلکاروں کو بھتہ وصولی تک محدود رکھیں تاکہ اسی روٹ سے گزرنے والے باقی گاڑی والے بےجا تشدد سے بچ سکیں۔
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں