تحریر: رئیس ماجد شاہ
تحریک حق دو بلوچستان کے مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے جو لوگ تحفظات کا اظہار کررہیں ہیں پھر خود تحریک کی بنیاد کیوں نہیں ڈالتے جب سب کو اپنی سیاسی بقاء خطرے میں محسوس ہورہا ہے تو سیاسی بونے اپنی قد کاٹ بڑھانے کیلئے حق دو تحریک پر انگلی اٹھا رہے ہیں 2003 سے 2018 تک گوادر میں کیا کچھ نہیں ہوتا رہا کیا اسے ماضی سمجھ کر داخل دفتر کردیں سب نے گوادر کی زمینوں کو مقامیوں لوگوں سے چھین کر غیروں کے حوالے کرکے محب وطن کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش نہیں کی آشرباد حاصل کون کہاں اور کس حد تک مخلص ہے قوم کو یہ قائدہ پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے صرف چند سیاسی پنڈت اپنے گروہی مفادات کیلئے اپنی زبانوں پر قفل لگائے ہوئے ہیں۔۔باعمل لوگوں کے کردار پر سوالیہ نشان لگانے والے اپنے بے عمل کردار پر کیوں غور کیوں نہیں کرتے ہیں
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں