تحریر: گلاب بلوچ
داستانوں میں ایسی کہانیاں ملتی تھیں کہ والدین اپنی اولاد کے لئے خزانے چھپا کے رکھتے تھے تاکہ یتیم بچے جب بڑے ہوں تو خزانہ نکال کر اپنی زندگی میں خوشحال رہیں ۔
بلوچستان کی سرزمین بھی اس ماں باپ کی طرح ہے جس نے اپنی اولادوں کے لئے خزانے چھپا کے رکھے ہیں ۔
گیس کے خزانوں سے تینوں صوبوں بشمول شمالی علاقہ جات کے گھر ،کارخانے اور صنعتیں پچھلے 60 سالوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔خود بلوچستان کے %95 سے زیادہ علاقوں میں آج تک گیس نہ پہنچ سکی۔ البتہ لکڑیوں کے استعمال سے پاکستان میں سب سے زیادہ ٹی بی کے مریضوں کا تناسب بلوچستان میں زیادہ ہے۔
دوسرا خزانہ سیندک ہے ۔ سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر پر ایک دہائی سے زیادہ چینی کمپنی کام کررہی ہے ۔مگر اس بلوچستان کے باسیوں کے لئے صاف پانی کا حصول ایک خواب ہے اس لئے پاکستان بھر میں جگر کی بیماریاں اور ہیپٹائٹس کے مریضوں کا تناسب بھی اس صوبے میں زیادہ ہے۔
ریکوڈک کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہاں سونے اور تانبے کے ذخائر دنیا کے پانچویں حصے کے برابر ہیں۔ جس کی مالیت ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہے ۔ دبئی اور بہت سارے ممالک صرف چند سو ڈالر کی وجہ سے ترقی کرچکے ہیں ۔اس کے علاوہ چاغی میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات اسے " معدنیات کا شوکیس " کہتے ہیں۔ مگربلوچستان میں زچگی کے دوران ماں یا بچوں کی موت بھی پاکستان کے باقی صوبوں کی نسبت زیادہ ہے ۔غربت ، غذائی قلّت اور بیماریوں کی وجہ سے اسے " موت کا شوکیس " کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
آج کل ریکوڈک کے بارے میں بند کمروں میں اجلاس ہو رہے ہیں ۔معاملہ کیا ہے ؟ کیا ہونے جارہا ہے ؟ میڈیا اور عوام کو کیوں نہیں بتایا جارہا ؟
یہ خزانے بلوچستان اور بلوچ کی ملکیت ہیں ۔سب سے پہلا حق یہاں کے بسنے والوں کا ہے ۔ یہ خزانے بلوچستان کے یتیم عوام کے ہیں جس کو آج تک ایک مخلص اور دیانت دار قیادت نہ ملی ۔ کس کس نے اس کا سودا کیا ؟ دلال کون تھا ؟ سہولت کار کون تھے ؟ اس دوران پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں نے صحت ،تعلیم اور روزگار کے بارے میں اور بلوچستان کے نوجوانوں سے متعلق ،صوبے کی ترقی کے لئے کیا پالسیاں بنائیں ؟ یہ آمدنی اور سی پیک کے 55 ارب ڈالر جن کا آدھا اس وقت خرچ ہوچکا ہے ،لاکھوں نوکریاں جو سی پیک سے پیدا کی گئیں ۔بلوچستان کو کیا ملا ؟؟؟
ان سوالات کے جوابات ہماری سیاسی پارٹیاں دے سکیں گی یا ان کو صرف الیکشن کی تیاری کرنی ہے۔
ہمارے دانشور اور بڑے بڑے صحافی حضرات ان کے ذمہ داروں کو طشت از بام کریں گے یا نہیں ان کا قلم اس مسؑلے پر توجہ ہٹانے کے لئے دوسری جانب استعمال ہوگا۔
بگند قسمت ءَ منی بچار قدرت ءَ منی
چےرنگ ءِسہل وتران کن کہ ڈولیں گپ بیان کن

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں