کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر" خدمت خلق میں پیش پیش :تحریر: اورنگ زیب نادر

کوئی تبصرے نہیں


تحریر: اورنگ زیب نادر

آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں ہر کوئی صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتا دوسرے کو چاہیے کچھ بھی ہوجائے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں لیکن اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے مفادادت کے بجائے دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ایسی ہی ایک تنظیم جو کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے نام سے جانا جاتاہے۔ جس کا مقصد تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون فراہم کرنا ہے۔
تھیلیسیمیا ایک ایسی بیماری ہے جو ہر دو دن کے بعد ان کو خون کی ضرورت ہوتی ہے اگر بروقت خون دستیاب نہ ہوا تو ایسے مریضوں کی موت بھی واقع ہوسکتی ہےاس چیز کو مد نظر رکھتےہوئے جناب ارشاد عارف اور ان کے ہم خیال دوستوں نے اس نیک کام کا آغاز کیا ۔جس کی وجہ سے کیچ کے کئی تھیلیسیمیا کے مریض اس سے استفادہ حاصل کررہےہیں۔ پہلے اگر کسی تھیلیسیمیا کے مریض کو خون کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ کئی دنوں تک خون کی تلاش میں رہتے لیکن الحمداللہ آج کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کی وجہ سے ان کا یہ مشکل اور پریشانی کسی حد تک حل ہوا ہے ۔
کیچ میں 500 سے زائد تھیلیسیمیا کے مریض ہیں جن کی تشخیص ہوئ ہے ناجانے کئی ایسے ہونگے جن کو اب تک پتہ ہی نہیں ہے۔ ان میں سے 250 کیچ تھیلیسیمیا کیئرسینٹر میں رجسٹرہیں۔ان کو ہر ہفتہ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ان کو علاج کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اگر دیکھا جائے تو ایک مریض کو مہینے میں 3 سے 4 مرتبہ خون لگانے پڑتے ہیں اگر 250 مریضوں کا مہینے کے حساب سے لگائیں تو ایک بڑی تعدار بنتی ہے یعنی ایک مہینے میں 1000 بوتل خون درکار ہوتی ہے جو ایک بڑی مانگ ہے۔
کچھ عرصہ قبل میں اپنے ایک عزیزکی عیادت کرنے گیا جو خون کی ایک بیماری میں مبتلا ہے ان کو وقتا فوقتاخون کی ضرورت ہوتی ہے ان کا کہنا تھا پہلے میں خون کے لئے بھاگتا رہتاتھا حتیٰ کہ میں ذہنی مریض ہوتاجارہاتھا لیکن اب جب بھی خون کی ضرورت ہوتی ہے تو میں کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر میں رجوع کرتاہوں اور مجھے خون فراہم کرتےہیں ایسے کئی مریض ہیں جو اس تنظیم کی بدولت فیضیاب ہورہےہیں۔
کچھ دن قبل میں ARY Digital چینل کا رمضان ٹرانسمیشن دیکھ رہاتھا جس میں کاشف اقبال تھیلیسیمیا کیئرسینٹر اور کچھ تھیلیسیمیا کے مریض مدعو تھے تو میزبان نے ان میں ایک مریضہ کو سوال کیا کہ آپ کو سوئی سے ڈر نہیں لگتا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں 3 ماہ کی تھی جب سے مجھے خون لگ رہا ہے اب مجھے سوئی سے ڈر لگتا ہی نہیں ہے لیکن ہمیں اور ہمارے گھر والوں کویہ پریشانی رہتی ہے کہ ہمیں خون ملتاہے یا نہیں ہم صرف اس بات پر پریشان رہتےہیں ہمیں کبھی یہ ڈر اور پریشانی نہیں رہتی کہ ہمیں سوئی لگتاہے۔ان کی باتوں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔
کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر اب تک کئی علاقوں اور اداروں میں بلڈڈونیشن کیمپ لگاچکاہے جس میں کیچ کےعوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی خون کی بوتل جمع ہوئےہیں۔کیچ تھیلیسیمیا کیئرسینٹر کی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔ آخر میں میرے آپ سب سے التماس ہے کہ کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کےہاتھ میں ہاتھ دیں تاکہ ان تھیلیسیمیا کے مریض اپنی زندگیاں آرام سے بسر کرسکیں۔

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں