تربت: مشہور قتل واقعہ کاپرامن تصفیہ

کوئی تبصرے نہیں

تربت۔ مشہور قتل واقعہ کاپرامن تصفیہ، سیشن جج مرادعلی بلوچ نے اپنے مقتول بھائی احمدجان دشتی کے قتل پر رندقبائل کی بلوچی میڑھ کو قبول کرتے ہوئے غیرمشروط طورپر معاف کرنے کااعلان کردیا، دونوں قبائل باہم بغل گیر، معروف روحانی پیشوا شے عبدالکریم، شے موسیٰ، صوبائی مشیر پی ایچ ای لالہ رشیددشتی، سابق سینیٹر وسابق صوبائی وزیرمیر اسلم بلیدی، جان محمددشتی، میر اصغررند، میر عبدالرؤف رند سمیت دیگر شخصیات کی بلوچی دیوان میں شرکت۔
تفصیلات کے مطابق سیشن جج مرادعلی بلوچ کے بھائی اورعلاقہ کی معروف شخصیت احمدجان دشتی کو چند سال قبل ڈنک میں فائرنگ کرکے قتل کیاگیا ان کے قتل میں ملوث گرفتار ملزم ولید عمر رند کو قتل کاجرم ثابت ہونے پر عمرقیدکی سزاہوئی تھی، اس تنازعہ کے پرامن تصفیہ اور دونوں خاندانوں کے درمیان راضی نامہ کرانے معروف روحانی شخصیت شے عبدالکریم نے علاقائی شخصیات کے ساتھ مل کر کوششیں شروع کردیں اس سلسلے میں سیشن جج مرادعلی بلوچ وخاندان کے افراد کے ساتھ کئی ملاقاتیں اورنشستیں منعقدہوئیں جن میں لالہ رشیددشتی، میرغفور بزنجو،میر اسلم بلیدی،میر عبدالرؤف رندودیگر شریک رہے جبکہ بعدمیں نامور شخصیت میر امام یعقوب بزنجو کے ساتھ مل کر کوششیں برقرار رکھی گئیں بالآخر مقتول کی فیملی غیرمشروط طورپر راضی نامہ کیلئے تیارہوگئی اور منگل کی شام شے عبدالکریم،شے موسیٰ نے رند قبائل کے سرکردہ شخصیت ملامزار رند کی قیادت میں ایک بلوچی میڑھ سیشن جج مرادعلی بلوچ کے پاس ڈنک کے جامع مسجد میں منعقدہ بلوچی دیوان میں لایا۔


بلوچی میڑھ میں میر اصغررند، میر عبدالرؤف رند، مفتی شاہ میر عزیزبزنجو، عبدالغفاررند(ملا بابو)، جاویدناصررند، میریاسربہرام رند،حاجی حسن صلاح زئی، میر حمل بلوچ، خلیل تگرانی، اعظم دوست رندسمیت دیگر اہم شخصیات شریک تھے جبکہ بلوچی دیوان میں سیشن جج مرادعلی بلوچ کے علاوہ مقتول احمدجان دشتی کے فرزندان قاضی محمدجان دشتی،نوید احمد جان دشتی، فدا احمدجان دشتی، عزیز و اقارب، واجہ جان محمددشتی، لالہ رشید دشتی، میر غفور بزنجو، میر اسلم بلیدی، جاڑین دشتی ایڈووکیٹ، میرباہڑجمیل دشتی ایڈووکیٹ، شے نزیر احمد، ڈاکٹرعبدالغفور بلوچ، ممتازیوسف، ایڈیشنل کمشنرنعیم گچکی، کہدہ اقبال دشتی، سیٹھ ابراہیم دشتی، جمعدارگل محمد گوہرگ باغ، چیئرمین الیاس بل نگور، میرامام بخش گرک، ڈاکٹراسلم آزار سمیت دیگر شخصیات موجودتھے۔

سیشن جج مرادعلی بلوچ نے بلوچی دیوان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے لئے یہ لمحہ انتہائی کٹھن، مشکل اور تکلیف دہ تھی جب ہمیں صلح کیلئے کہاجاتا مگر شے برادران اورمعززشخصیات کے باربار ملاقاتوں اور قرآن شریف کو بیچ میں رکھ کر فیصلہ کرنے کی منتوں کے باعث ہم دل پرپہاڑ رکھ کر کسی شرط وشرائط اور قصاص ودیت کے بغیر صلح کیلئے راضی ہوئے اور آج ہم اس میڑھ کو قبول کرنے کااعلان کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں شے عبدالکریم، شے موسیٰ، میر امام یعقوب بزنجو، میر اسلم بلیدی، واجہ جان محمد دشتی ودیگر کا اہم رول رہاہے،شے عبدالکریم اوررندقبائل کے سربراہ ملامزارنے بلوچی میڑھ قبول کرنے پر مرادعلی بلوچ ودیگرلواحقین کا شکریہ اداکیا، اس موقع پر میر اسلم بلیدی، مفتی شاہ میرعزیز بزنجو نے بھی خطاب کیا۔

بشکریہ: ڈیلی ایگل کیچ

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں