پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء نعیم بلوچ کا صحافیوں سے گفتگو

کوئی تبصرے نہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء نعیم بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بلوچستان قدرتی وساہل سےمالا مال ہونے کے باوجود شدید پسماندگی کا شکار ہے سونا تانبا کاپر چاندی اور دیگر سینکڑوں قیمتی قدرتی معدنیات سے مالامال خطہ زمین کے باسی بوند بوند پانی کے لیے ترس رہے ہیں چاغی پاکستان کا وہ عظیم دھرتی ہے جس نے ایٹم بم کی تپش کو اپنے سینے پر برداشت کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیا سیندک کے سونے تانبے سے چائنہ میں بلندوبالا محل تعمیر ہوئے مگر بد بخت بلوچوں کو صاف پانی کا ایک بوند نصیب نہیں ہوا ترقی جنت کا ایک خواب بنا ہوا ہے غربت اور بیماری نے چارسو ڈھیرے ڈالے ہیں آج حکمران ہمارے دھرتی کو اپنے کمیشن بنانے کے لیے کوڑیوں کے دام نیلام کر رہے ہیں اگر حکمران ہمارے ترقی چاہتے تو صرف سیندک کے خزانے سے چاغی شنگھائی بن جاتا لوگ آج یہاں بھوک بیماری سے مر رہے ہیں ناخواندگی تعلیم اور صحت کی سہولیات کا نہ ہوناعیاش حکمرانوں کے لیے باعث ذلت ہے ہمارے قیمتی خزانے ہمارے آسراتی زند کے بجائے ہمارے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں یہاں زندگی گزارنا بہت دشوار ہے اور ہمارے حکمران فخر سے کہتے ہیں پسماندہ بلوچستان کو ترقی دیں گے ان کو ذلت سے ڈوب مرنا چائیے بلوچستان کے بدبخت عوام کے نااہل ڈمی حکمران صرف دستخط کرنا جانتے ہیں بلوچستان میں کھبی بھی عوام کو اپنے نماہندے منتخب کرنے نہیں دیا الیکٹیبلز کے نام پر اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ گھوڑے حکمران بنتے رہے پہلے سیندک کے خزانوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اب ریکوڈک کو اپنے عیاشیوں کے نظر کر رہے ہیں رخشان ڈویژن کے بڑے بڑے نام خاموشی سے دبک کر ایک کونے میں اس آس میں بیٹھے ہیں کہ اگلے باری وہ پسندیدہ گھوڑا بنیں بلوچستان کی عوام آج بے یارومدگار ہے اور خاص کر رخشان کے دھرتی لاوارث ہے سیاست چمکانے والے سیاست چمکا کر اپنے تجوری بھر لیتے ہیں زندہ باد مردہ باد کے لیے عوام کو تن تنہا چھوڑ دیتے ہیں ریکو ڈیک سیندک کے خزانے سے ہمیں فاہدہ نہیں مل رہا ہے تو کوئی اور کیوں فاہدہ لے ہمارے دھرتی کے خزانوں سے عیاش حکمران اپنے لیے بلندوبالا محل تعمیر کرتے رہے ہیں کیا اس مالا مال دھرتی کے عوام کی مقدر میں صرف ذلت وغلامی لکھ دیا گیا ہے بہت ہوا ہمارے ساتھ دھوکہ بہت ہوئے طفل تسلیاں اب مزید لوٹ مار ناقابل برداشت ہے بلوچستان کے مفلوک الحال عوام اب کسی کے دھوکے میں نہیں آئے گا اور نہ ہی کسی کو اپنے وساہل ہڑپ کرنے دیگا ہم حکمرانوں کے کسی بھی معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ کسی کے ساتھ ہم نے معاہدہ کیا ہے کہ جرمانے کی رقم بھر دیں جس نے جس سے معاہدہ کیا ہے وہ جانے اور اسکا معاہدہ جانے بلوچستان کے عوام اپنے وساہل کا خود مالک ہے کسی کو اپنے وساہل لوٹنے نہیں دہینگے ہم سے پوچھے بغیر ہمارے گھر کے فیصلے کرنے والے ہوش کے ناخن لیں پہلے ہی یہ خطہ سرخ انگارا بنا ہوا ہے کہیں نالاہق حکمرانوں کے وجہ سے یہ دھماکہ سے پھٹ نہ جائے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام وساہل کے اختیارات صوبوں کو دئیے وزیراعلیٰ بلوچستان ہمارے قیمتی اثاثوں کو کوڑیوں کے دام بیچنے پر بضد ہے سیندک سے صرف سنجرانی نے فاہدہ اٹھایا چاغی کے عوام تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ریکو ڈک ہمارے نسلوں کا سرمایہ ہے 50 فیصد سے کم کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جس نے ہمارے معدنیات کا سودا کیا عوام کا جنگ ان سے ہو گا قدوس بزنجو کے مجبوریاں ہونگے ان پر سخت پریشر بھی ہو گا مگر اپنے دھرتی اور عوام کے لیے وزیراعلیٰ کی ایک ہزار کرسی قربان کریں جیسے قاہد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عزم کیا تھا گھاس کھائیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے آج وزیر اعلیٰ نے ان کیمرہ بریفنگ دے کر خود سے عوامی اعتماد کو مکمل طور پر ختم کیا ہے جو معاہدہ طے ہوا ہے اس کو منظر عام پر لایا جائے 50 فیصد پر بلوچستان کے عوام اس وقت راضی ہونگے جب ریفائنری یہاں لگیں گے بلوچستان کا حصہ جنس کی صورت میں لیں گے ڈالر اور روپے کی صورت میں نہیں لیں گے اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہیں لیے گلی کوچوں سے بچے بوڈھے جوان مائیں بہنیں نکلیں گے جعلی حکمرانوں کے ایوانوں کو آگ لگا دیں گے

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں