استاد اور شاگرد کے درمیان ایک عظیم رشتہ ہوتاہے استاد کو روحانی والدین بھی کہاجاتاہے ،استاد معاشرے میں ایک عظیم مقام رکھتاہے ان کی بدولت معاشرہ ، ملک اور قوم ترقی کی راہ پر گامزان ہوتےہیں ان کے بغیر معاشرہ ادھورا سمجھا جاتاہے۔استاد کی اہمیت اور ان کا مقام ومرتبہ کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے.استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سنوارتا ہے جیسے ایک سونار دھات کے ٹکڑے کو سنوارتا ہے.استاد علم کے حصول کا براہ راست ایک ذریعہ ہے اسلئے انکی تکریم اور ان کے احترام کا حکم دیا گیاہے۔ کہتے ہیں کہ "رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے"
آج میں ایک ایسے ہی استاد کے بارے میں لفظ کشائی کرنے جارہاہوں جن کی خدمات تعلیمی میدان میں انگنت ہیں۔
حافظ عبدالرؤف عرصہ دراز سے درس و تدریس سے وابستہ رہےہیں جن کی بدولت آج کئی لوگ کامیابی سے ہمکنار ہوچکےہیں۔ میرا میرے استاد محترم سے 4 یا 5 سال قبل جان پہچان ہوا ، جب میں نے مڈل پاس کیا تو آگے ہائی اسکول جانا تھا لیکن ہمارے گاؤں میں ہائی سکول نہیں تھا تو مجبوراََ ہمیں کئی اور تعلیم کو جاری رکھنا تھا تو ہم کچھ دوستوں نے گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول تربت میں داخلہ لیا۔ جب داخلہ لیا تو ایک دن ہم اسٹوڈنٹس کارڈ بنوانے گئے تو وہاں ایک شخص یعنی حافظ عبدالرؤف بیٹھا تھا لیکن میں ان کو نہیں پہچان رہاتھا جب میرا کارڈ بنوانے کا وقت آیا تو انہوں نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا کہ تم اورنگ زیب ہو؟ میں حیران رہ گیا یہ مجھے کیسے پہچان رہاہے تو میں نے جواب دیا ہاں میں ہی ہوں مزید انہوں نے کہا میں نے آپ کو سوشل میڈیا میں دیکھا ہے ہماری تھوڑی گپ شب ہوئ اور کارڈ بنوانے کے بعد واپس چلاگیا،لیکن میں نے اس سے ان کا نام نہیں پوچھا ،جب کلاس کا آغاز ہوا تو ہمارے کلاس کے انچارچ ہوا یعنی (حافظ عبدالرؤوف ) جیسے میری ملاقات کارڈ بنوانے کے وقت ہوا تھا تو یہاں سے ان سے جان پہچان بن گیا تو اس کے بعد میں نے فیس بک میں ان کو تلاش کیا اور فرینڈ ریکوسٹ بھیج دیا ۔ حافظ صاحب نے ہمیں دو سال تک اُردو پڑھایا، ان کی کلاس میرا پسندیدہ کلاس ہوا کرتاتھااور میرا پسندیدہ استاد ہی حافظ صاحب تھے ۔ وہ جب بھی کلاس میں داخل ہوتے تھے مسکراہٹ کے ساتھ ، بات بھی کرتے تھے وہ بھی نرم مزاجی کے ساتھ اور خوش اسلوبی کے ساتھ۔
وہ ہمشیہ کیچ میں تعلیم کو فروغ دینے میں پیش پیش تھے اور ہمیشہ ان کی یہ کوشش تھی کہ کیچ میں تعلیمی انقلاب لاسکے۔
بدقسمتی سے ہم گذشتہ روزاس عظیم ہستی اور بہترین استاد سے محروم ہوگئے ان کی موت کسی سانحہ سے کم نہ تھا ۔ ان کی خدماف تعلیمی میدان میں قابل ستائش ہیں ۔ میں ان کو خراچ تحسین پیش کرتا ہوں اور پروردگار سے دعا ہے کہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔
آخر میں اپنے استاد محترم کو شاد عظیم آبادی کا یہ اشعار پیش کرتا ہوں
"ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں میں۔۔۔۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم"

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں