بلوچستان لاوارث ہے کیا؟ اصغر زہیر

کوئی تبصرے نہیں


تحریر: اصغر زہـیـر

نیوز آن چینل کا اینکر ارم محمود گزشتہ دنوں گوادر گئی تھی اور وہاں اپنی یوٹیوب چینل کے لیے کچھ ویڈیوز بھی بنائی تھی. ان ویڈیوز میں کچھ ایسی مزاق اور بے ہودہ باتیں ہیں جوکہ ہم پر گراں گزر رہے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری زبان، ثقافت اور میوزک پر برائے راست حملے ہیں.اور اس جرم میں ہمارے اپنے انیتاجلیل بھی شامل ہے کیونکہ اس کی گائیڈر وہی تھی.
ایک ویڈیو میں وہ کسی معصوم اور سادہ آدمی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اسکی مونچوں اور بلوچی شلوار کا بلاواسطہ مزاق اڑا رہی ہے جوکہ قابلِ مزمت اور ناقابل برداشت ہے.ہماری شلوار پہ طنزیہ جملہ کسنا پنجابی کی مجموعی نفسیات ہے. یہ میں نے خود بعض جگہوں پہ دیکھا اور سنا بھی ہے. ہم نے تو کبھی پنجابی کی لُنگی پہ نہ بات کی ہے اور نہ اُسکی چیڑخانی کی ہے.
ہر ایک قوم کی اپنی ثقافت اور روایت ہوتے ہیں اور ہم ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے آ رہے ہیں.
ایک اور ویڈیو میں وہ بلوچی میوزیکل انسٹرومنٹس کے ناموں پر طنزیہ انداز میں ہنس رہی ہے. اس کا یہ کہنا کہ یہ کیسے نام ہیں جو ہمارے زبان میں گالیاں ہیں. اور وہ بار بار یہ ناموں کو ریپیٹ کروا رہی ہے.
ہرزبان کی اپنی ساخت اور الفاظ و معنی ہوتے ہیں جوکہ دوسری زبان میں کچھ نہ کچھ غلط معنی نکالتے ہیں.ایک تو آپ کو دوسری زبان پہ دسرس نہیں دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ دوسری زبان کی الفاظ کا مزاق اڑائیں؟ پنجابی میں "تُسی" تمھارا،تم یا آپ کو بولتے ہیں لیکن ہماری زبان میں یہ غلط بات ہے.جس کے پیٹ سے زیادہ ریح نکلتا ہے ہم اُس کو "تُسی"کہتے ہیں. "تس" پیٹ سے خارج ہونے والے گندی ہوا کو کہا جاتا ہے.'تُسی" یعنی زیادہ ریح خارج کرنے والا."گڈی" جوکہ پنجابی میں گاڑی کو کہا جاتا ہے لیکن ہماری زبان میں "گڈی"ہاتھ کی درمیانی انگلی کو کہا جاتا ہے اور اُس عمل کو کہتے ہیں جوکہ اس انگلی کی مدد سے پیچھے ڈالا جاتا ہے.اسی طرح "گیت"گانے کو کہا جاتا ہے لیکن ہم "پاخانے" کو کہتے ہیں. اس کے علاہ اور بہت ساری الفاظ ہیں جو دوسرے زبان میں اور معنی رکھتے ہیں.
ہم مہمانوں کی بہت زیادہ عزت و احترام کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے جان بھی دیتے ہیں.لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مہمان کی دل میں جو آئے وہ کرے اور ہم خاموش تماشائی بنیں.
اس سے پہلے گوادر میں حق دو تحریک کو کوریج دینے کے لیے ایک اور چینل کی بھی فیمیل اینکر گوادر گئی تھی. یہی عورت کی پنجاب میں کیا حشر ہوئی تھی جوکہ ہم سب کے سامنے ہے لیکن گوادر نے اس عورت کو کیسی عزت دی وہ قابلِ دید اور قابل رشک ہے.اُس نے اپنی آرٹیکل میں اپنی تاثرات اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ پڑھنے والے کی آنسوں نکل پڑتے ہیں.
ویسے تو پہلے سے ہماری تاریخ کو رد و بدل کرکے غلط پیش کیا گیا ہے اور اب ہماری روایات پہ حملے ہورہے ہیں لیکن کوئی اس ماہی کو بتائے کہ یہ بلوچستان کی سرزمین ہے اور روایت کی امین ہے.جہاں ہم اپنے روایات کے لیے سر کٹوا سکتے ہیں وہاں اگر ضرورت پڑے تو ہم اس لکیر سے آگے بھی جاسکتے ہیں.
تو لہذا میری گزارش اس عورت سے یہ ہے کہ وہ اپنی اس غلطی اور غلط رویوں سے باز آکر بلوچ قوم سے معافی مانگے اور اپنی چینل سے یہ ویڈیوز ہٹا دے اگر نہیں تو ہم سب ملکر چینل کو رپورٹ کریں گے.

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں