گوادر۔ صوبائی حکومت حق دو بلوچستان تحریک کے ساتھ ہوئی تحریری معاہدوں اور مطالبات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام
اب یکم مارچ کو غیر معینہ مدت کے لیے تاریخی دھرنا دیا جائے گا
اب کی بار مزاکرات وزیر اعلیٰ یا چیف سیکرٹری سے نہیں بلکہ وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ہوں گے۔عوامی پریس کانفرنس میں قائد حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمن کا پریس کانفرنس سے خطاب
سیکنڑوں افراد کی شرکت
حق دو بلوچستان تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے شہدائے جیونی چوک نزد مکی مسجد کے سامنے منعقدہ عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ 16 دسمبر کو صوبائی حکومت کے ساتھ اپنے جائز مطالبات کے لیے تحریری معاہدے ہوئےتھے اور ان مطالبات کو تسلیم اور حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے ہم سے ایک مہینے کی مہلت مانگ لی تھی لیکن حکومت اپنے وعدوں، تحریری معاہدوں پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نےآج تک ہماری احتجاج اوربلوچستان کے سب سے بڑے دھرنے کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا
انھوں نے کہا کہ ہم نے 15 نومبر کو کفن پوش ریلی نکالی ، مستقبل کے معماروں یعنی نونہالوں کی ریلی کے ساتھ خواتین کی تاریخی ریلی نکالی اور لاکھوں کی تعداد میں مردوں نے ریلی کو بھی صوبائی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا
ان کا کہنا تھاوزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ان مطالبات کو حل کرنے کے لیے ہم سے ایک مہینے کا ٹائم مانگ لیا تھا مگر حکومت ابھی تک ایک بات اور معاہدے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں
انھوں نے کہا کہ میں نے مکران سمیت پورے بلوچستان کا دورہ کیا مگر ساحل بلوچستان میں غیر قانونی ٹرالنگ ابھی شدومد کے ساتھ جاری ہے بارڈر ابھی تک ایف سی کے حوالے ہے اور وہ ٹوکن سسٹم چلارہا ہے جبکہ صوبائی حکومت بے بس ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں ابھی بھی ایف سے تعینات ہیں انھوں نے کہا کہ منشیات کے اڈے بدستور جاری ہیں مگر ہر وارڈ میں شراب اور منشیات بیچی جارہی ہے
انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ماہی گیروں کے لیے ایک پیکج کا علاج کیا تھا مگر ابھی تک ان کا کوئی اتا پتہ نہیں انھوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے کارکنوں کے مقدمے ابھی بھی ختم نہیں کئے گئے
پکڑی گئی گاڈیاں اور کشتیاں ابھی تک لوگوں کے حوالے نہیں کئے گئے انھوں نے کہا کہ گوادر کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے مگر ضلع گوادر متاثرین کو ایک کلو آٹا ایک کلو گھی میں اکتفا کررہی ہے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ
حکومت بلوچستان کی کار کردگی سے مکران کے ماہی گیر مکران کے عوام مطمئن نہیں اس موقع پر انھوں نے مکران بھر میں احتجاجی شیڈول کا اعلان کردیا انھوں نے کہا کہ 20 جنوری کو اورماڈہ کوسٹل ہائی وے پر دھرنا ہوگا3 فروری کو پسنی کوسٹل ہائی وے پر دھرنا
10 فروری کو سربندن کراس کوسٹل ہائی وے پر دھرنا 27 فروری کو اوتھل زیروہ پوائنٹ پر دھرنا ج کہ *یکم مارچ کو غیر معینہ مدت کے لیے گوادر میں دھرنا چوک پر ایک مرتبہ پھر تاریخی دھرنا دیا جائے گا
۔انھوں نے کہا کہ اب کی بار وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو یا چیف سیکرٹری سے نہیں بلکہ وزیر اعظم اور آرمی چیف سے مزاکرات یوں گے
انھوں نے مشیر فشریز بلوچستان اکبر آسکانی کو غیر قانونی ٹرالنگ کی تدارک میں ناکامی پر پوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر قوم پرست رہنما حسین واڈیلا اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
بشکریہ: ڈیلی ایگل کیچ

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں