باسک اور راجی ہی کیوں؟ زاہدہ رئیس راجی

کوئی تبصرے نہیں


تحریر: زاہدہ رئیس راجی

آج اپنے تمام قارئین کی توجہ ایک سیریس مسئلے کی جانب مبزول کرانا چاہتی ہوں۔ وہ تمام احباب جو میرے نام اور کام سے واقف ہیں انہیں بخوبی علم ہے کہ راجی میرا تخلص ، باسک میری بلوچی ادبی سائیٹ کا نام 2005 سے ہے۔ میرا کسی بھی سیاسی اور سماجی ادارے سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے اور میری یہ جدوجہد بلوچی زبان و ادب کی ترویج ہے جسکا ثبوت میری کتابیں اور ڈیجیٹل لائبریری ہے ۔
دوسال قبل تک  جب جب بلوچی ادبی سرکل میں جہاں کہیں بھی راجی کا نام نظر آیا لوگوں کو زاھدہ رئیس راجی ہی نظر آئی اور جب جب باسک کا نام لیا گیا بلوچی ادبی سائیٹ اور ڈیجیٹل لائبریری کا نام لیا گیا ۔ لیکن دو سال قبل این  جی اوز کے ایک گروپ نے راجی کے نام سے فورم بنایا۔ جنہوں نے احتجاجی مظاہروں میں بھی حصّہ لیا،  سیاسی جلسوں میں بھی اور ادبی جلسوں میں بھی یعنی انکا کوئی ایک واضح مقصد موجود  نہیں ہے ۔ ساتھ ہی انکے تمام لکھاری اراکین مختلف بلاگرز پر اپنے نام کے ساتھ راجی بھی لکھنے لگے جس طرح سے کہ میں اپنے نام کے ساتھ لگاتی ہوں۔ جس کے بعد میں نے ازراہ احتیاط سوشل میڈیا پر اپنا اعتراض رکارڈ کروایا تھا کہ میرا ان سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے ۔  
آج ایک اور پریشان کُن صورتحال سے واسطہ پڑا ہے کہ ایک مزاحمتی تنظیم بلوچ نشلسٹ آرمی نے اپنے قیام کے ساتھ ہی اپنے آفیشل چینل کا نام ” باسک “ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 
یہ نہ صرف ہماری غیر سیاسی ، خالص ادبی اور تعلیمی جدوجہد کو نقصان پہچانے کی بالواسطہ  کوشش ہے بلکہ مذکورہ نام کے یکساں ہونے کی وجہ سے میرے لئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ۔ 
حیرانی کی بات یہ ہے کہ این جی او کو راجی کے علاوہ پوری دنیا میں کوئی دوسرا نام نہیں ملا اور اس نئی تنظیم کو باسک کے علاوہ کوئی اور نام نہیں ملا ۔ یہ محض اتفاقات تو نہیں ہوسکتے ۔ 
احباب سے گزارش ہے کہ مذکورہ تنظیم کو نام بدلنے کی سفارش کرے تاکہ باسک ڈاٹ کام کی  بلوچی ادبی جدوجہد کو نقصان نہ پہنچے ورنہ ہم  مجبور ہوکر اپنی پچھلےسولہ سال کی جدوجہد کو ہمیشہ کے لئے بند کردیں گے ۔ 

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں