مولانا ہدایت الرحمن بلوچ : شہزاد سلطان بلوچ

کوئی تبصرے نہیں


تحریر : شہزاد سلطان بلوچ

کئی سوالات اٹھے جن میں بلوچستان کے مسلسل ڈسے جانے والی عوام کا معروف خدشہ سب سے آگے تھا کہ یہ مولانا اچانک ابھرے کیسے؟ اس کو اتنی پذیرائی کیونکر ملی؟
اگر دیکھا جائے تو یہ خدشات بجا بھی ہیں، کیونکہ بلوچستان کو اچانک ابھرنے والے کبھی راس نہ آئے، چاہے وہ افراد ہوں یا پارٹیاں۔
لیکن مولانا ہدایت الرحمن ذرا مختلف ہے۔
میں مولانا کا تب سے حامی تھا جب یہ اتنے ابھرے نہیں تھے، بلوچی لہجے میں اردو بولنے والے اس سادہ اور خوش مزاج شخص میں جو خلوص نظر آتا ہے، وہ کہیں اور نظر نہیں آتا۔ انتہائی نرم لہجہ رکھنے والے شخص کو اتنے سخت لہجے میں ریاست کو مخاطب کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ضرورت نہیں مجبوری ہے، یہ ان ماؤں کی چیخوں کی مجبوری ہے جو عرصہ دراز سے رو رہے تھے۔
اس شخص نے بلوچستان کی سیاست کو ایک نیا خوبصورت رخ دیا، ایک عام طبقے سے اٹھنے والے اس مولانا کے پیچھے جس طرح ریاستی ناروائیوں کے ستائے عوام کھڑے ہوئے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ کیا خواتین کیا بوڑھے کیا بچے! جوان تو تھے ہی تھے۔
مولانا ہدایت الرحمن پر بہت کچھ لکھا اور بولا جائے گا۔ میں بھی آپ کو اس کے ساتھ تفصیلی سیاسی مجلس کی روداد سناؤں گا، اس پر جتنے اعتراضات میرے مارکسسٹ دوستوں کو ہیں، ان پر بھی ان کے ساتھ تفصیلی بات ہوئی، جو آپ کو سناؤں گا مگر فی الحال کے لیے اتنا سمجھ لیں کہ مولانا ہدایت الرحمن رات کے سب سے کھٹن لمحے میں تاریکی کے پردے کو چیرنے والا مشرق کی طرف سے طلوع ہونے والا وہ ستارہ ہے جو بیک وقت بارش کی آمد کا پتہ، صبح کی روشنیوں کے طلوع ہونے کا اعلان اور رات کی تاریکی کو ختم کرنے جیسا کام کرتا ہے، گو کہ یہ ستارہ بلوچستان کے غروب سے ابھرا ہے۔
یہ لازمی نہیں کہ بلوچستان کو مکمل طور پر مولانا حقوق دلوا کر رہیں، اس سفر کو آگے بڑھانے کوئی بھی آئے مگر تاریخ یہ لکھے گی کہ ظلم و جبر کے خلاف عوامی طاقت کو کھڑا کرنے کے کام کا آغاز ایک بار پھر کسی ملا کو کرنا پڑا۔ یہ ملا لوگ جہاں اٹھے انقلاب لے کر آئے یا پھر پیش خیمہ بنے۔ مولانا بھی ان میں سے ایک ہوگا۔ پیش خیمہ بن چکا ہے، خدا کرے انقلاب کا ذریعہ بنے!!

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں