پسنی: مائی گیروں کی حمایت میں خواتین کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں سینکڑوں خواتین، مائیگیر اور بچوں نے شرکت کی۔
جبکہ حق دو تحریک پسنی کے کارکنوں نے عزیز اسماعیل کی سربرائی میں خصوصی طورپر شرکت کی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
آج بروز ہفتہ پسنی کے مقامی مائی گیروں کی حمایت اور فیکٹری مالکان اور مچھلی کے بڑے بیوپاریوں کی من مانیوں و استحصال کے خلاف پسنی کی خواتین نے ایک عظیم الشان ریلی نکالی۔
ریلی ماشاءاللہ چوک سے نکل کر پسنی پریس کلب کے سامنے جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔
ریلی کے شرکاء نے فیکٹری مالکان اور مقامی سیٹھوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جس کا سلوگن تھا میرے ابو اور میرےبھائیوں کو حق دو۔
احتجاجی شرکاء نے کہا صدیوں سے سمندر ہمارا زریعہ معاش ہے اسکی بے دردی سے لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔
ساحل سمندر پسنی پر پہلا حق مقامی ماہیگیروں کا ہے نہ کہ فیکٹری مالکان یا بیوپاریوں کا ہے۔
غیرمقامی مائی گیروں کی سرپرستی کسی بھی قسم قابل قبول نہیں۔
شرکاء نے کہا گزشتہ روز فیکٹری مالکان اور سیٹھوں کی جانب سے مائی گیری کے شکار پر قدغن کے نام پر غلط پروپگنڈہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
کمیشن کے نام پر عام مائیگیروں کی زندگی اجیرن بنانے کی مذمت کی گئی۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں