تحریر: اورنگ زیب نادر
پروردگار نے ہمیں ایک ایسے دیس سے نوازہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستانی قوم دنیا کی بہترین اقواموں میں شمار ہوتاہے لیکن بدقستمی سے اس سرزمین میں صرف حکمرانوں کی فقدان ہے۔نام نہاد حکمرانوں کی برمار ہے جو صرف اپنی ذات تک محدود ہے عوام اور قوم کی کوئی فکر نہیں ہے۔ حکمران وہ تھے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے ۔ یہ ہے خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دور حکومت کی کہانی جو چوبیس لاکھ مربع میل کے حکمران تھے،کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھا جائے گا۔
ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے.اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہوں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے .وقت کا بادشاہ ،چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو .اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں نہیں کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے..آپ رضی اللہ عنہ روتے جاتے تھے اور فرماتے اے عمر تو کافر تھا،ظالم تھا،بکریاں چراتا تھا.خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تجھے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا کیا تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے.اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا.حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے.یہ تھے حکمران جو راتوں کو بیدار ہوکے عوام کی فکر اور خدمات کیا کرتے تھے لیکن ہمارے ہاں روز لوگ بھوک اور افلاس سے مر رہےہیں اور بےگناہ لوگوں کو سرعام قتل کیاجارہاہے لیکن حکمرانوں کے کانوں کو جوح تک نہیں رہتا۔
ہمارے دیس میں تب تک تبدیلی اور خوشحالی نہیں آئےگا جب تک اس ملک میں مخلص اور ایماندار حکمران برسرِ اقتدار نہیں ہونگے ۔ قوم اور ملک کی قسمت کو بدلنے میں اُس ملک کی حکمران کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔کیا ہمیں حضرت عمر فاروق جیسے حکمران نصیب ہونگے؟

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں