تحریر: اورنگ زیب نادر
بجلی آج کل انسان کی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ اب کوئی چیز بجلی کے بغیر چل نہیں سکتی۔ ہم نے سنا ہے کہ باہر کے ممالک میں بجلی چوبیس گھنٹے ہوتی ہے جب کہ ہمارے ملک پاکستان میں اس کے برعکس ہے۔
مکران کی بجلی ایران سے آ رہی ہے۔ ایران بجلی ہمیں بہت ہی اچھے نرخ پہ دے رہا ہے۔ ایک یونٹ تقریبا ایک روپیہ سے کم ہے۔ ایک یونٹ ایک روپیہ سے کم ہو، پھر بجلی کا یہ حال ہو تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ مکران میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے، پھر بھی عوام کو بجلی کے لیے ترس رہے ہیں۔
اگر واپڈا کہے کہ آپ لوگ بل نہیں دی رہے ہیں تو ان کی یہ بات سراسر جھوٹ ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ کیوں کہ ضلع کیچ میں چند ایسے فیڈر موجود ہیں جہاں 24 گھنٹے بجلی دی جاتی ہے اور بل ایک روپیہ نہیں دیتے ہیں پھر بات تو بل کی ہوئی یا کوئی اور۔
تربت پاکستان کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ بغیر بجلی کے کیسے گزارا ہو سکتا ہے۔ جب رمضان کا بابرکت مہینہ آتا ہے تو لوڈشیڈنگ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔
واپڈا کی ایک اور ڈرامہ بازی یہ ہے کہ کبھی وولٹیج کو کم اور کبھی زیادہ کر دیتے ہیں کہ عوام کی قیمتی چیزیں جل جائیں۔ واپڈا اس ڈرامہ بازی میں کامیاب ہے۔ بجلی بجائے سہولت کے عذاب بن چکی ہے۔
مکران میں ایک درجن سے زائد منتخب نمائندے موجود ہیں اور یہ نمائندے بجلی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے ہیں تو قوم ان سے کیا امید رکھے۔ لہٰذا حکمران اب ڈرامہ بازی بند کریں اور عوامی مسائل پر مخلصانہ توجہ دیں۔ عوام نے آپ کو اسمبلی میں صرف بیٹھنے کے لیے نہیں بھیجا ہے۔
مکران کے عوام منتخب نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا بجلی کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔

کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں